حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 96
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 96 ذکر حبیب ۱۹۰۷ ء کے جلسہ سالانہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کا خطاب حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ۱۹۰۷ ء کے جلسہ کی کیفیت کے بارہ میں روایت کرتے ہیں:۔ر جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی وفات کے متعلق الہامات ہو رہے تھے انہی دنوں کا واقعہ ہے کہ جلسہ سالانہ جو ( بیت) اقصیٰ میں منعقد ہوا اس میں حضور علیہ السلام نے نماز کے متعلق تقریر کرتے ہوئے سورہ فاتحہ کی تشریح فرمائی اور عبودیت کے معانی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ عبد جب صحیح طور پر عبودیت کے رنگ سے رنگین ہوتا ہے تو اس کی حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسے ایک لوہے کا ٹکڑا آگ میں پڑ کر آگ کا انگارہ سا ہو جاتا ہے۔اسی طرح صفات الہیہ سے عبد متصف ہو جاتا ہے۔جس طرح کہ وہ لوہے کا ٹکڑا آگ نہیں ہوتا بلکہ اپنی ماہیت میں لوہا ہوتا ہے اور عارضی طور پر آگ کی کیفیت اس میں سرایت کر جاتی ہے۔اسی طرح عبد اپنی حقیقت میں انسان ہوتا ہے لیکن اس میں صفات الہیہ کام کر رہی ہوتی ہیں۔ایسے عبد کا ارادہ اپنا نہیں ہوتا بلکہ الہی ارادہ کے ساتھ اس کی تمام حرکات وسکنات وابستہ ہوتی ہیں۔اس مضمون کی تشریح حضور علیہ السلام نے ربط کے ساتھ فرمائی اور اس ضمن میں کرامات و معجزات کی حقیقت کو نمایاں فرمایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلكِنَّ اللهَ رَمَیٰ کی آیت کے مفہوم کے مطابق اس واقعہ کا ذکر کیا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر خاک دشمن کی طرف پھینکی اور اسے پھینکنے کے ساتھ آندھی چلی حضور نے فرمایا۔بظاہر تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مٹھی بھر خاک پھینک رہے تھے مگر حقیقت میں الہی ارادہ اس کے اندر کام کر رہا تھا اور اس کا نتیجہ آندھی کی شکل میں ظاہر ہوا۔حضور نے فرمایا کہ یہ جو حدیث میں آتا ہے کہ نوافل سے بندہ کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور ہوتے ہوتے یہاں تک نوبت پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ہاتھ بن جاتا ہے۔جس سے