حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 97 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 97

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 97 ذکر حبیب وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں ہو جاتا ہے جس سے وہ چلتا ہے اور اس کی آنکھ ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے کان بن جاتا ہے کہ جن کے ساتھ وہ سنتا ہے اور زبان بن جاتا ہے کہ جس سے وہ گویا ہوتا ہے۔یہ حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ ایسے عبد کی اپنی خواہشات باقی نہیں رہتیں جو کچھ اس سے صادر ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے صادر ہوتا ہے۔اسی ضمن میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تو بہ کی حقیقت پر بھی روشنی ڈالی اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے نفس میں آگ اور پانی کی سی خاصیت رکھی ہے جس طرح پانی آگ سے کھول کر آگ کی کیفیات اپنے اندر لے لیتا ہے لیکن اس کھولتے ہوئے پانی کو آگ پر ڈالا جائے تو اس سے وہ بجھ جائے گی۔اسی طرح انسان کا نفس امارہ جب اپنی خواہشات بھیمیه سے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے اور گناہوں کی آگ اُسے کھا رہی ہوتی ہے۔تو اس وقت بھی اُس نفس کے اندر یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات پر غالب آ کر انہیں سرد کر دیتا ہے۔میں ان دنوں غالباً آٹھویں یا نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔مجھے اس تقریر کا مضمون اچھی طرح یاد ہے اور یہ بھی یاد ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام جب یہ تقریر فرما رہے تھے۔تو میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پس پشت قریب ہی بیٹھا ہوتا اور اس وقت میرا دل اس خیال سے غمگین اور افسردہ تھا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام عنقریب ہم سے جدا ہونے والے ہیں۔بوجہ اس کے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو اس قسم کے الہام ہورہے تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ حضور جلد رحلت فرمانے والے ہیں“۔الفضل قادیان ۲۴ امیریل ۱۹۴۳ ، صفحه ۳) دمشق میں ایک مجلس حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس دسمبر ۱۹۲۵ء میں (مدہ) دمشق میں خدمات بجالا رہے تھے۔۱۵ دسمبر ۱۹۲۵ء کی رات کو ذکر حبیب کی ایک مجلس میں حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب نے جو آپ بیتی حضرت مولانا شمس صاحب