حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 82
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 82 خود نوشت حالات زندگی ہے اور ہمیشہ کیلئے قابل قدر ہے کیونکہ ان کے ہاتھوں سے بنیا د رکھی گئی جس پر ایک عظیم الشان محل تیار ہوا اور بعد میں آنے والے اس سے فائدہ اٹھانے لگے۔معمار اول جن حالات میں تعمیر شروع کرتا ہے ضروری نہیں کہ وہ ہر خامی کا تدارک کر سکے اور جو بعد میں آنے والا ہے وہ تازہ دم ہے اور اس کی آنکھ پہلوں کی خامیوں کو آسانی سے دیکھ سکتی ہے اور اس کا تدارک کرنے میں اس کے لئے سہولتیں میسر ہیں جو پہلوں کو میسر نہ تھیں اور اس بعد میں آنے والے کے لئے بھی لغزش ہے۔احتمالات ہیں جس کا بڑا سبب اس کی ناتجربہ کاری ہے اس لئے آیت میں دونوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں کہ اگر ان کے کام میں کوئی خامی رہ گئی ہو تو اس کا تدارک وہ اپنی رحمت سے فرمائے اور بعد میں آنے والے جو نا تجربہ کار نوجوان ہیں۔انہیں بھی مغفرت سے نوازے اور انہیں بھی مغفرت سے نوازے اور نا تجربه کاری) کی لغزشوں اور ناقص تربیت کی انہیں خامیوں سے بچائے اور ان کے دلوں میں اپنے محسنوں کیلئے کسی قسم کی کدورت پیدا نہ ہونے دے اور دونوں گروہ ایک دوسرے کیلئے مظہر صفات رافت ورحمت ہوں۔اللہ تعالیٰ اس نو تعمیر (دین حق) کی عظیم الشان عمارت جس کی بنیادیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء اور ( رفقاء) کے ہاتھوں سے اٹھائی گئی ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل ورحم سے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔نوجوانوں کے اندر بھی وہ پاکیزہ تبدیلی اور مکمل اخلاص اور ہمت پیدا فرمائے جس کا یہ مقدس کام متقاضی ہے۔(آمین) اللهم صل على محمد و علی آله محمد کما صلیت و بارکت علی ابراهیم (خاکسار) زین العابدین ولی اللہ شاہ ۱۴/ جولائی ۱۹۶۱ء