حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 72 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 72

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 72 خود نوشت حالات زندگی ایک دو ماہ گزرے تو مرزا گل محمد نے مجھ سے کہا کہ ابھی کسر باقی ہے ان کی نظر میں ایک سکھ جمعدار ایک پنشنر ہے ان سے بطور انسٹرکٹر کام لیا جا سکتا ہے۔ایک ماہ کے لئے ان کو ملازم رکھ لیا جائے تو بہت اچھا ہو گا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ہماری درخواست قبول فرمائی اس سکھ جمعدار نے (مربیان ) کی فوجی پریڈا کھٹر طریق سے کروائی اور ساری کسر نکال دی۔آخری پریڈ حضرت صاحب نے بھی ملاحظہ فرمائیا اور آپ جمعدار کے آرڈر کے چست فقروں کو سن کر خوب ہنسے۔رائٹ لیفٹ ، رائٹ لیفٹ ، قدم سے قدم ، سامنے دیکھ۔ان فقروں کے ساتھ خود اس کے قدم بھی آگے پیچھے دائیں بائیں ( مربیان ) کے قدموں کے ساتھ ساتھ اٹھتے اور زمین پر پڑتے تھے۔قدموں کی ہم آہنگی اور موزونیت ایک خوش کن منظر پیش کر رہی تھی۔امید ہے ( مربیان ) یہ پریڈ نہیں بھولے ہونگے۔قادیان میں خدمات اس کے بعد ۱۹۳۷ء میں جب نظارت امور عامہ کا چارج میں نے لیا تو ۱۹۳۸ء اور ۱۹۳۹ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی (نوراللہ مرقدہ) سے اجازت حاصل کر کے تمام کارکنان صدر انجمن احمدیہ کو فوجی پریڈ سکھنے کا حکم جاری کیا گیا۔بڑی مشکل سے وہ اس سے مانوس ہوئی۔ایک دن قدیم زنانہ جلسہ گاہ قادیان جہاں یہ مشق کی جاتی تھی میں ایک لاٹھی لے کر آیا اور کارکنوں سے کہا کہ آپ میں سے بعض مجھ سے ناراض ہیں کیونکہ میری طرف سے غیر حاضری پر جرمانے بھی ہوتے رہے ہیں اس وقت میرے ساتھ مقابلہ کر لو اور اپنا غصہ نکال لو۔اس موقعہ پر میاں عطاء اللہ صاحب اور مرزا عبدالحق صاحب پلیڈران بھی موجود تھے۔دوافراد نے جرات کی اور معافی مانگتے ہوئے یکے بعد دیگرے مجھ پر بڑے زور سے حملہ آور ہوئے۔مگر میں نے دونوں کو مار بھگایا بعد میں میں نے کارکنوں کو خطاب کیا اور انہیں بتایا کہ عمر اور جسمانی قوت و صحت کے لحاظ سے آپ مجھ سے زیادہ مضبوط اور جوان ہیں لیکن ایک فرق ہے مجھ میں شوق عمل ہے اور آپ میں نہیں۔اس کے علاوہ انہیں اور نصائح بھی کیں۔