حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 71
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 71 خود نوشت حالات زندگی جہاں حضور چار پائی پر بے ہوش پڑے تھے۔لحاف اپنے اوپر ڈالا ہوا تھا اور پاؤں دابے جا رہے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل ( نور اللہ مرقدہ) آپ کے سرہانے کی طرف زمین پر پاؤں کے بل بیٹھے آپ کی نبض ہاتھ میں لئے ہوئے تھے۔جون کا مہینہ تھا۔تھوڑی دیر کے بعد ہوش میں آئے اور مدہم کمزور آواز میں کچھ فرمایا۔مجھے اچھی طرح سنائی نہیں دیا۔میں دہلیز میں تھا۔بعد میں معلوم ہوا کہ آپ کوششی کی حالت وحی میں طاری ہوئی تھی اور آپ نے جو الفاظ فرمائے اس کا مفہوم ( یہ تھا ) کہ منذ روحی میں اطلاع دی گئی ہے کہ پنجاب میں ہیضہ ( عذاب الہی ) پھوٹے گا اور اسی ہفتہ پنجاب میں ہیضہ پھوٹا اور قادیان میں علی شیر جو آپ کے رشتہ داروں میں سے تھے اور سخت مخالف تھے ہیضہ سے فوت ہو گئے۔یہ اتنے شدید دشمن تھے کہ جب ہم نئے نئے قادیان آئے اور باہر باغ دیکھنے کیلئے گئے تو ہمیں راستے میں ملے اور ہمیں فحش گالیاں دیں کہ آگئے ہیں سیر کرنے کیلئے۔فوجی تربیت ( مجھے ) فوجی تربیت سے بڑا فائدہ پہنچا اور اس تربیت کے دوران میری تعلیم بھی جاری رہی۔انگریزی فوجی لٹریچر جو برٹش کونسل بغداد کی لائبریری سے ترکوں کے ہاتھ آیا تھا۔اس کے عربی ترجمہ کا کام بھی میرے سپرد کیا گیا۔اس کے علاوہ ادارہ استطلاعات اور افتاء اور تعذیری خدمت بھی میرے سپرد تھی۔اس تربیت نے مجھے اس قابل بنا دیا کہ سلسلہ کی انتظامی نوعیت کی خدمات بجالا سکوں۔فوجی تربیت سے مجھے اس قدر شغف تھا کہ قادیان میں میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) سے بحیثیت ناظر (اصلاح وارشاد ) عرض کی کہ ہمارے مربیان فوجی تربیت کے محتاج ہیں۔آپ نے میری اس بارہ میں پیشکش کی۔تجویز منظور فرمائی اور لیفٹینٹ مرزا گل محمد مرحوم کی زیر نگرانی ان کی فوجی پریڈ شروع ہوئی۔جب