حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 66
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 66 خود نوشت حالات زندگی ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) نے مجھے ان دونوں افسروں سے ملنے اور آپ کا مشورہ ان کے سامنے پیش کرنے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ میں ان دونوں سے ملا اور وہ حضور کے مشورے سے بہت خوش ہوئے اور اسے قبول کیا اور اتنی قدر کی کہ مسٹر میڈلیٹن کے ساتھ تو میرے تعلقات بے تکلف ہو گئے اور ان سے بھی کشمیر کے کام میں مددملی۔حضرت خلیفہ اسیح ( نوراللہ مرقدہ ) کو اصلاحات کشمیر کے بارہ میں اس قدر اہتمام تھا کہ ان کے اعلان ہونے پر فرمایا کہ مجھے ( زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ) دور ونزدیک کے علاقہ جات میں جا کر لوگوں سے براہ راست تعلق پیدا کرنا اور معلوم کرنا چاہئے آیا اُن کا نفاذ ہوا ہے یا کاغذ پر سیاہی کے حروف ہی ہیں؟ ہمالہ کی چوٹیوں پر چنانچہ گاندھڑ بل کے قومی دور کر مسٹر غلام قادر کو ساتھ لیا اور کشمیر ٹورسٹ گائیڈ Tourist) (Guide کی مدد سے دور دراز علاقوں میں گیا۔سون مرگ، بالتل ، بلتستان، دراز یا پت وادی ریچھ والی وادی) شیطان کنڈ ، ترگ بل، بانڈی پورہ، بارہ مولا وغیرہ علاقوں کا دورہ کرتا ہوا دو تین ماہ بعد سری نگر پہنچا۔اس سفر کے اثناء مجھے ہمالہ کی بلند چوٹیوں اور ان دشوار گزار جگہوں سے گذرنا پڑا جن سے متعلق ( ٹورسٹ ) گائیڈ (Tourist Guide) میں یہ ہدایت لکھی تھی۔Tourist should not try this rout۔It is precarious۔(یعنی زائرین کو یہ راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔یہ راستہ غیر محفوظ اور خطرناک ہے ) جب بانڈی پورہ پہنچا اور وہاں ڈاک بنگلے میں اترا اور آئینہ دیکھا تو اپنا چہرہ سیاہ فام دیکھ کر حیران اور فکر مند ہو گیا۔شدت سردی کی وجہ سے رنگ بدل چکا تھا۔میں راستہ میں غلام قادر صاحب کا سیاہ فام چہرہ دیکھ کر اُن سے مذاق کرتا تھا۔مگر یہ معلوم نہ تھا کہ اپنا حال بھی اُن جیسا ہے۔گھوڑے کی سواری سے پنڈلی کے بال جھڑ چکے تھے جواب تک صاف ہیں اور داڑھی کے بالوں میں سفیدی شروع ہو گئی تھی اور ان سفروں میں مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ منظور کردہ وہ