حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 59 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 59

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 59 خود نوشت حالات زندگی الثانی ( نور اللہ مرقدہ) سے بھی ان کی ملاقات ہندو ہوٹل میں ہوئی تھی ) بوقت ملاقات وزیر صاحب دور ہی وہیں کونے میں بیٹھے رہے۔راجہ صاحب نے مجھے اجازت دی کہ میں خود فسادات کے مواقع دیکھوں اور حالات کی تحقیقات کروں۔یہی میرا مقصد اس ملاقات سے تھا اور انہوں نے وزیر صاحب کو حکم دیا۔وہ کورنش بجا لائے۔ہم دونوں وزیر صاحب کے دفتر میں آئے۔کیا دیکھا وہاں پر تکلف چائے کا انتظام تھا۔فیصلہ ہوا کہ میں اگلی صبح سفر پر روانہ ہوں اور وہ اس بارہ میں متعلقہ علاقہ جات کے افسران کو پروانہ بھیج دیں گے کہ میرے لئے سہولتیں بہم پہنچائی جائیں اور مجھے کہا کہ روانہ ہونے سے پہلے ان سے ملوں۔میں نے اس کے لئے ان سے مدد نہیں مانگی تھی بلکہ میں چاہتا تھا کہ تنہا فساد زدہ علاقوں کا دورہ کروں۔دوسری صبح جب ان کے ہاں گیا تو معلوم ہوا کہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور نو دس بجے جاگتے ہیں۔یہ میں جانتا تھا اسی لئے عملاً صبح سویرے کا سفر اختیار کیا۔سردار صاحب کو ساتھ بطور راہنما لیا اور عبدالرب خاں کلرک بھی میرے ساتھ تھے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہوا کہ ایک ہی ہفتہ میں علاقہ تھکیالہ پڑا وا، مینڈھر اور سرن کا دورہ مکمل کر لیا اور یہی علاقے فسادزدہ تھے۔تھکیالہ پڑاوا کا سفر بہت ہی تھکا دینے والا تھا۔راستے میں کہیں کھانے کیلئے کچھ نہ ملا۔پہاڑی پر پگڈنڈیوں کا راستہ تھا۔رات تاریک تھی۔گھوڑے تھے مگر ان پر سفر محفوظ نہ تھا اور چڑھائی کی وجہ سے تکلیف دہ تھا ) اور رات بارہ ایک بجے کے درمیان پیدل کر یلا مقام پر پہنچا جہاں جنگل میں سردار فتح محمد صاحب روپوش تھے۔وہ مجھے رات ہی کو ملے اور میں نے انہیں مشورہ دیا کہ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ پھانسی کے احکام صادر ہو چکے ہیں۔چنانچہ میں براستہ سرن پہاڑیوں اور ندیوں اور دیواروں کو عبور کرتا ہوا موسلا دھار بارش میں آدھی رات کو پو نچھ پہنچا۔راستے میں تین چار دفعہ کپڑے تبدیل کرنے پڑے۔راستہ میں ندی تھی۔مدرسہ بیسی پونچھوں کی مدد سے ندی عبور کی اور انہیں معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ ان کے جرمانے معاف کرانے اور ظالموں کو سزا دلانے