حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 58
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 58 خود نوشت حالات زندگی علاقہ پونچھ میں جگہ جگہ فسادات ہوئے۔ڈوگروں نے مسلمانوں پر ظلم توڑے اور ان کے بڑے بڑے آدمیوں کو قید میں ڈالا۔علاقہ مینڈھر اور علاقہ سرن وغیرہ پر ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ جرمانے ڈالے گئے اور جرمانوں کو وصول کرنے کیلئے مسلمانوں پر سختیاں کی گئیں۔الزام یہ تھا کہ ان لوگوں نے بغاوت کی ہے اور ہندوؤں کے مکانات جلا دیئے ہیں۔تھکیالہ پڑاوا کے مسلمان رؤوسا بھی قید میں تھے۔سردار فتح محمد خان ( کریلہ ) روپوش تھے۔ان کے اور ان کے ساتھیوں کے خلاف پھانسی کے احکام عدالت سے ہو چکے تھے اور ان کے والد اور رشتہ دارسب قید و بند میں تھے۔چوہدری عزیز احمد صاحب باجوہ ایڈووکیٹ وغیرہ احمدی وکلا ءان کے مقدمات کی پیروی کیلئے بھیجے گئے تھے۔میں بھی ان مظلومین کی مدد کیلئے بھیجا گیا۔سب سے پہلے میں نے آنجہانی راجہ پونچھ (سکھ دیو) سے ملاقات کی۔جب میں ملاقات کے کمرہ میں داخل ہوا تو کیا دیکھا کہ وزیر صاحب دروازے سے قریب دائیں طرف کی دیوار کے پاس کرسی پر سہمے بیٹھے ہیں اور میرے لئے پاس ہی ایک کرسی رکھی ہے اور راجہ صاحب سامنے کی دیوار کے قریب جو کافی فاصلے پر تھی، کے قریب میز لگائے کرسی پر بیٹھے ہیں۔وزیر صاحب چاہتے تھے کہ صرف درشن کر کے میں واپس چلا جاؤں۔میں نے اپنی کرسی اٹھائی اور مسکراتے ہوئے راجہ صاحب سے مخاطب ہوا کہ اتنی دور سے میں اس لئے آیا ہوں کہ قریب ہو کر آپ سے باتیں کروں تا آپ مجھے سمجھیں اور میں آپ کو۔انگریزی کے الفاظ یہ تھے۔Heart to Heart Talk ان کی دائیں جانب کرسی رکھ کر ان کے قریب بیٹھ گیا۔ان سے مصافحہ ہوا ( میں نے سنا تھا کہ مسلمانوں سے مصافحہ کرنے سے کتراتے ہیں یا اگر مصافحہ کر لیتے تھے تو بعد میں اشنان کرتے لیکن وہ جلد ہی میرے ساتھ بہت بے تکلف ہو گئے اور میں نے ان میں کوئی ایسی ویسی بات محسوس نہ کی۔شریف طبیعت تھے اور اس ملاقات کے ایک یا دو سال بعد حضرت خلیفۃ اسیح