حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 47 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 47

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 47 خودنوشت حالات زندگی غلطیوں کا زیادہ احتمال ہے اور غلطیوں کی اصلاح کا یہ طریق نہیں کہ ہندو کو ہٹاؤ، مسلمان لاؤ، سکھ یا بدھ حاکم کو لاؤ بلکہ مسیح طریق وہ ہے جو اسلام نے بتایا ہے۔تَعَاوَنُوا عَلَى البِرِّ وَ التَّقْوى۔(سورۃ مائدہ:۳) تعاون اور تقوی سے ایک دوسرے کی لغزشیں معاف کی جائیں اور دوستی کی جانی چاہئے۔تقریر کا یہ لب لباب تھا جس سے سامعین نے ایک نیک اثر لیا۔پولیس ڈائری نویس نے میری تقریر ضبط تحریر کر لی۔میری صدارتی تقریر کے بعد آخر میں (حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب ایم۔اے (اللہ آپ سے راضی ہو ) اُٹھے اور لوگوں سے کہا کہ جلسہ کی کارروائی سے علیحدہ ایک تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں اور اس کی مجھ سے اجازت مانگی اور پبلک سے مخاطب ہوئے کہ حکومت نے ان کی درخواست برائے انعقاد کا نفرنس ٹھکرا دی ہے اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ سیالکوٹ میں ایک آفس قائم کیا جائے اور وہیں کا نفرنس کی بنیاد ڈالیں۔پبلک کی رائے طلب کی۔چاروں طرف سے یہی آوازیں آئیں کہ ضرور ایسا کیا جائے۔عبدالرحیم صاحب کی تقریر میں کافی جوش تھا۔جس کا اندازہ میں نے پبلک کے جوش و خروش سے کیا اور اس وقت قریباً پندرہ میں ہزار روپیہ نقد اور بصورت وعدہ اس غرض کیلئے حاصل ہو گیا وہ کہرام کا منظر تھا۔میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کولکھ چکا تھا کہ حضور مطمئن رہیں آپ کی تجویز کو عملی جامہ پہنایا جائے گا اور روپیہ بھی یہیں سے اکٹھا ہو جائے گا۔میں ان دنوں قاضی صلاح الدین صاحب پشاوری کی کوٹھی واقع سپر کار میں مقیم تھا۔دن کے وقت ہاؤس بورڈ چنار باغ آکر دفتر کا کام کرتا جہاں ہمارا آفس تھا۔مکرم شیخ بشیر احمد صاحب اور شیخ محمد احمد صاحب پلیڈر ان سیاسی مقدمات میں امداد کیلئے اسی ہاؤس بورڈ میں مقیم تھے۔دوسرے دن شہر میں آیا تو جگہ جگہ مجھے اطلاع ملی کہ گورنر صاحب کی کارمیری تلاش میں ہے۔آل جموں و کشمیر کا نفرنس کا قیام ان دنوں گورنر سردار عطر سنگھ صاحب تھے۔آخران کا پیغامبر ہاؤس بورڈ میں مجھ سے ملا