حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 10
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب جاری رہیں۔10 سوانحی خاکه۔۔۱۴ فروری ۱۹۳۷ ء سے ۱۴ ستمبر ۱۹۴۷ء تک آپ ناظر امور عامه و خارجه قادیان خدمات بجالاتے رہے۔۱۴ / اپریل ۱۹۴۱ ء کو مہاراجہ دوندر سنگھ مہندر بہادر مہاراجہ آف ریاست پٹیالہ بذریعہ کار قادیان تشریف لائے اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامہ و خارجہ نے احمدیہ کور کے رضا کاروں کے ساتھ آپ کا خیر مقدم کیا۔مہاراجہ صاحب نے حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی ” بیت الظفر “ میں قیام کیا۔(الفضل قادیان ۱۶۔اپریل ۱۹۴۱ء صفحها ) مارچ ۱۹۴۶ء میں شیر کشمیر شیخ عبداللہ سے دہلی میں آخری ملاقات کی۔فسادات میں اسیر راہ مولیٰ کا اعزاز اگست ستمبر ۱۹۴۷ ء کے فسادات میں متعد د احمدیوں کو قادیان اور اس کے ماحول سے گرفتار کیا گیا۔ان اسیران میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب بھی شامل تھے۔گرفتار شدگان کو گورداسپور اور جالندھر کی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔تاہم سید نا حضرت مصلح موعود کے رویا کے مطابق کہ ”سید ولی اللہ شاہ آئے ہیں اور میرے پاس آ کر بیٹھ گئے ہیں“ اور حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کی مبشر رؤیا کے مطابق جلد رہائی کے سامان پیدا ہو گئے۔احباب اسیران اپریل ۱۹۴۸ء کو رہا کر دیے گئے۔روزنامه الفضل لاہور ۱۷ اکتوبر ۱۹۴۷ ۱/۱۰۶اپریل ۱۹۴۸ء صفحه ۲) آپ یکم ستمبر ۱۹۴۸ء سے ۲ اکتوبر ۱۹۴۸ ء تک قائمقام ناظر اعلیٰ کے طور پر خدمات