حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 127 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 127

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 127 کچھ یادیں، کچھ تاثرات ایک سال ٹھہریں۔اس تمام عرصہ میں با قاعدہ اجلاس کرواتیں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے میں ان کے ہمراہ تھی میری امی اجلاس پر وصال ابن مریم اور صداقت سید نا حضرت اقدس بانی سلسلہ پر ایسے جوش سے بولتیں اور دلائل دیتیں کہ ان کے رشتہ داروں کو حیرت ہوتی کہ کیسے اچھے طریقوں سے ان مسئلوں پر تقریر کرتی ہیں۔دمشق سے واپسی پر میری امی نے وہاں کے امیر جماعت سید منیر الحسن صاحب کی بہن کے سپرد یہ کام کیا اور بڑی تاکید کی کہ اجلاس با قاعدگی سے ہوتے رہیں۔اس کے بعد پاکستان سے نصیرہ بیگم صاحبہ جن کی شادی دمشق کے سلیم الجابی سے ہوئی وہاں گئیں۔ان کو بھی بہت تاکید کی وہاں جا کر لجنہ کے اجلاسوں کی نگرانی کرتی رہیں۔میری امی کی یہ بڑی خواہش تھی کہ ان کے وطن ( دمشق ) میں احمدیت کثرت سے پھیلے جب ان کو معلوم ہوا کہ دمشق میں ہمارے مشن کو سیل کر دیا گیا ہے تو اس پر ان کو اس قدر دکھ ہوا کہ بیان نہیں کر سکتی۔وہ نمازوں میں رو رو کر دعائیں کرتیں کہ خدایا دمشق میں دین حق کی ترقی کے سامان پیدا فرما۔اس کے بعد میری امی ۱۹۷۲ء میں دمشق گئیں وہ اُن دنوں بہت بیمار تھیں۔اپنے بھائی کے پاس صرف چھ ماہ رہ کر واپس آگئیں پھر دو سال بعد ان کی وفات ہوگئی۔اللہ تعالیٰ ان پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔محبت الہی اور عشقِ رسول میری امی بہت ذکر الہی کرنے والی اور خدا سے محبت کرنے والی تھیں۔ان کے دل میں خدا اور اس کے کلام کی محبت اس قدر نمایاں تھی کہ وہ جب بھی نماز اور قرآن پڑھتیں تو محبت الہی کی وجہ سے ان کے آنسو جاری ہو جاتے۔خدا تعالیٰ کا خوف ان کے دل میں ہر وقت رہتا وہ نہ صرف پنجگانہ نماز کی پابند تھیں بلکہ تہجد اور اشراق کی نمازیں بھی پڑھتی تھیں۔ذکر الہی کے ساتھ کثرت سے درودشریف پڑھا کرتی تھیں۔رمضان المبارک کے روزے بڑی باقاعدگی سے رکھا کرتیں۔اس کے علاوہ میری امی نے شوال کے روزے کبھی نہ چھوڑے اور نفلی روزے کثرت سے رکھا کرتیں۔بڑی دعا گو تھیں۔