حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 126 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 126

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 126 کچھ یادیں، کچھ تاثرات قادیان آکر دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔میرے ابا جان اور ان کے خاندان نے میری امی کو ایسی محبت اور شفقت دی کہ وہ بالکل اپنے عزیر واقارب کو بھول گئیں۔میری امی نے با قاعدہ اُردو پڑھنی اور لکھنی سیکھی۔سیدنا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی ساری کتاب میں انہوں نے پڑھیں۔بے حد ذہین تھیں۔اس لئے بہت جلد اُردو بولنی اور پڑھنی شروع کر دی اور اپنے آپ کو اپنے سسرال کے طور طریقوں میں ڈھال لیا۔خدا تعالیٰ نے میری امی کو ایک ایسا محبت بھرا دل عطا کیا تھا جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔اپنے سر یعنی حضرت سید عبد الستار شاہ صاحب کی ایسی محبت سے خدمت کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔جب تک میرے دادا زندہ رہے میرے ابا جان کے پاس رہے۔نہ صرف میرے دادا محترم سے محبت اور ان کی عزت کی بلکہ اپنے تمام دیوروں، نندوں اور باقی تمام رشتہ داروں کو اپنی بے لوث محبت اور ایثار اور خدمت سے اپنا گرویدہ بنالیا۔سب کو اپنے بھائی بہنوں کی طرح سمجھا۔خاص طور پر حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ سے خاص محبت تھی جو کہ میری سب سے چھوٹی پھوپھی تھیں۔میری پھوپھی حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کو بھی اپنی تمام بھاوجوں سے میری امی سے زیادہ پیار تھا اس کا سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے اپنے مضمون میں جو انہوں نے اپنی والدہ کے متعلق لکھا ہے ذکر فرمایا ہے۔سید نا حضرت بانی سلسلہ کے خاندان سے بھی ان کو دلی محبت تھی خاص طور پر حضرت اماں جان اور ان کی اولا د سے۔۱۹۵۵ء میں جب حضرت فضل عمر دمشق گئے تو میری امی کے بھائی اور رشتہ داروں نے شکوہ کیا کہ ہماری بہن ایک دفعہ بھی واپس اپنے وطن نہیں آئیں۔چنانچہ حضور نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی ان کی بہن کو دمشق بھیجیں گے۔اس طرح ۱۹۲۶ء کے بعد ۱۹۵۶ ء میں میری امی کو دوبارہ اپنے وطن جانے کی توفیق ملی۔اللہ تعالیٰ نے میری امی کو یہ موقع دیا کہ وہاں جا کر سب سے پہلے لجنہ قائم کی وہاں تقریباً