حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 121 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 121

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 121 کچھ یادیں، کچھ تاثرات وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام اور آپ کی کتب دوسری زبانوں میں ترجمہ ہوں۔خود بھی اس کام میں مصروف رہتے۔کئی کتب اور اہم مضامین کا عربی میں ترجمہ کیا۔مجھے مشرقی افریقہ لکھا کہ کشتی نوح کا سواحیلی زبان میں ضرور ترجمہ کریں۔ان کی اس نیک تحریک کا مجھ پر بہت اثر ہوا۔ابھی گئے دو ایک سال ہی ہوئے تھے اور سواحیلی زبان سیکھنے کی طرف خاکسار نے توجہ کی اور خدا کے فضل سے اس سے مجھے ( دعوۃ الی اللہ ) کے لحاظ سے بہت ہی فائدہ ہوا ترجمہ کی خاص مہارت نہ تھی پھر بھی خدا تعالیٰ پر بھروسہ کر کے کشتی نوح کا خاکسار نے سواحیلی زبان میں ترجمہ شروع کر دیا۔تعلیم کا حصہ اور کشتی نوح کے دوسرے حصے ایسے پر اثر اور زوردار ہیں کہ جب ترجمہ کرنے کیلئے بیٹھتا تو اپنی عاجزی اور عدم اہلیت کا احساس اُبھر کر سامنے آ جاتا لیکن خدا تعالیٰ کی خاص تائید اور دعاؤں کی برکت سے مجھے توفیق مل گئی کچھ عرصہ کے بعد کشتی نوح کا ترجمہ مکمل ہو کر شائع ہو گیا اور پڑھنے والوں پر اس کا خاص اور نمایاں اثر ہوا۔اس کے ترجمہ کرنے اور شائع کرنے میں خاکسار کو خاص تائید الہی حاصل رہی۔مگر ہمیشہ ہی خاکسار کو یہ احساس رہا کہ حضرت شاہ صاحب مرحوم نے نہایت نیک جذ بہ اور تاکید سے اس کتاب پر ترجمہ کی مجھے تحریک فرمائی تھی۔مجھے یقین ہے کہ اس کتاب کے سواحیلی میں شائع ہونے سے جو بابرکت ( تربیتی) نتائج نکلے ہیں یا نکلتے رہیں گے خدا کے فضل سے حضرت شاہ صاحب کو بھی اس کا ثواب پہنچتا رہے گا۔اس زمانہ کے بزرگ ذاتی دلچسپی ان کاموں میں لیتے انہیں خود ( دعوۃ الی اللہ ) کا شوق تھا۔( دعوۃ الی اللہ ) کا تجربہ تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ کون کون سی کتاب مفید ہے اور اس کے ساتھ اپنی بزرگانہ شان کے عین مناسب دلی دعاؤں سے امداد کرتے تھے اور اس طرح بے سروسامانی کے باوجود خدا تعالیٰ کاموں میں برکت دیتا تھا۔حضرت شاہ صاحب ایسے ہی نیک اور خدام دین بزرگوں میں سے ایک تھے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور اپنے قرب سے متمتع فرمائے۔آمین روزنامه الفضل ربوہ ۴ جولائی ۱۹۷۶ء)