حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 92
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 92 ذکر حبیب نارووال ایک بارونق شہر تھا۔قادیان کے متعلق ہمارے دماغوں میں یہ تصور تھا۔کہ حضرت امام مہدی کا شہر بہت بارونق ہوگا۔مگر اس میں کچھ بھی نہ تھا۔طبیعت اُداس ہونے لگیاور باجماعت نمازوں کی پابندی نے اور بھی تکلیف دہ صورت اختیا ر کر لی۔خصوصاً عشاء اور فجر کی باجماعت نمازوں میں شریک ہونا تو بہت ہی دو بھر تھا۔ایک بار عشاء کے وقت جب مانیٹر نے ہمیں جگانا شروع کیا تو میں نے جھنجھلا کر اسے ایک تھپڑ رسید کیا اور بھائی حبیب بولے کہ ہم کسی مصیبت میں پھنس گئے۔مگر چھ ماہ نہیں گزرے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیضان نے ہماری روحوں میں کچھ ایسا جادو بھرا اثر کیا کہ ہم دونوں بھائیوں نے با قاعدہ تہجد بھی پڑھنی شروع کر دی اور گھنٹوں نماز میں کھڑے رہتے اور سجدوں میں پڑے رہتے اور مطلق طبیعت سیر نہ ہوتی ہمارے اساتذہ ہماری اس حالت سے اچھی طرح واقف اور گواہ ہیں۔الفضل قادیان ۳۱ مارچ ۱۹۴۳ صفهیم) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کیفیت سیر حضرت شاہ صاحب سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سیر کے بارہ میں بیان کرتے ہیں:- حضرت اقدس علیہ السلام سیر کو بھی جایا کرتے تھے کبھی کسی طرف نکلتے کبھی کسی طرف۔حضور علیہ السلام کے ہمراہ حضور کے ( رفقاء) ہوتے اور ہم طلباء بھی یہ سن کر بے تحاشا بورڈنگ سے بھاگ نکلتے اور حضور کے ساتھ ہو لیتے۔آگے پیچھے دائیں بائیں جہاں سے حضور پر نظر پڑ سکتی اور وارفتہ سے ہو کر حضور کو دیکھتے جاتے عجیب زمانہ تھا۔ایک دفعہ جب کہ حضور انور دار الانوار کے کھیتوں کی طرف سیر کے لئے جارہے تھے تو اس وقت میں بھی ساتھ گیا۔اب جہاں مولوی عبد المغنی خان صاحب وغیرہ کے مکانات ہیں اُن دنوں یہاں بڑ کا درخت ہوتا تھا