ولادت سے نبوت تک — Page 56
04 سے تعلق رکھتی تھیں۔نہایت شریف۔پاکیانہ اور نیک فطرت خاتون تھیں۔ان کے دو شوہر یکے بعد دیگرے وفات پاچکے تھے۔ان کے کئی بچتے تھے۔اس نیک خاتون کی شرافت کی وجہ سے لوگ ان کو طاہرہ کہا کرتے یعنی پاک ہے چنانچہ آپ راضی ہو گئے۔اور ان کے غلام میسرہ کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے۔دورانِ سفر میبره نے آپ کو محنتی اور دیانت دار پایا۔پھر حسن معاملہ کی وجہ سے بہت نفع ہوا۔وہ کامیاب لوٹے۔اس کے علاوہ میسرہ نے آپ کی بعض اور صفات کا بھی بڑی گہری نظر سے اور غور سے مطالعہ کیا۔اسی دوران ایک واقعہ بھی پیش آیا جس کی وجہ سے وہ آپ کا معتقد ( اس کے دل میں احترام بڑھا ہو گیا ہے بچہ وہ واقعہ کیا تھا ؟ مجھے بھی بتائیں۔ماں میسرہ کا بیان ہے کہ جب ہم شام کی سرحد میں داخل ہوئے تو گرمی کی شدت کے باعث محمد درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔اسی مقام پر ایک راہب مسطورا کی قیام گاہ صومعہ تھی۔اس کی نظر آپ پر پڑی تو باہر آیا۔اور مجھ سے پوچھا کہ درخت کے سائے میں بیٹھنے والا شخص کون ہے۔میں نے بتایا کہ یہ قریش کے قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور حرم کے محافظوں کے خاندان سے ہیں رابی مشتری فسطورا فوراً بول اٹھا کہ یہ وہ مقدس درخت ہے جس کے سائے میں سوائے پیغمبر خدا سے خبر پاکر دنیا کو پیغام دینے والا) کے کوئی نہیں له بیرت خاتم النبیین جلد اول صفحه ۱۳۸۰ که سیرت خاتم النبیین جلد اول صفحه ۱۳۸۷