ولادت سے نبوت تک — Page 38
بچہ وہ کیسے ؟ ۳۸ ماں پیارے آقا حضرت محمد اپنے بچپن کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا سب بچے پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔انہوں نے اپنے تہہ بند کھول کر ان کو کندھوں پر رکھا۔عرب میں عموماً بڑے لوگ بھی کام کرتے ہوئے یا مزدوری کرتے ہوئے اپنے تہ بند کو گردن سے باندھ لیتے تھے۔یا کندھے پر رکھ لیتے تھے۔ان میں بہر مہنگی رنگے پن کو عیب (برائی ) نہیں جانا جاتا تھا۔کیونکہ وہ کعبہ کا طواف بھی ننگے ہو کر کرتے تھے جب آپ نے بھی پتھر لانے کے لئے اپنے تہہ بند کو کھولنا چاہا تو غیب سے توجہ دلائی گئی کہ ایسا مت کر تمہ ہند کو سختی سے باندھے رکھو۔آپؐ فرماتے ہیں کہ میں ڈر گیا۔سب بچے اس بر سنگی کی حالت میں پتھر لا رہے تھے لیکن صرف میرا تہ بند بندھا ہوا تھا اور میں اپنی گردن پر پتھر رکھ کر لاتا رہا ہے بچہ کیا اسی طرح کا کوئی اور واقعہ بھی ہوا۔ماں اسی طرح کا واقعہ تعمیر کعبہ کے وقت بھی پیش آیا۔جب قریش اپنے تہہ بندوں کو گلے میں باندھے پتھرا ٹھا کوں رہے تھے۔آپ حضرت عباس (چھا ) والے گروپ میں شامل تھے کیونکہ انہوں نے کام کے لئے لوگوں کو دو گروپس میں بانٹ دیا تھا۔آپ کے چانے کئی بار کہا کہ تند بنداد نچا کر لو لیکن آپ اسی طرح کام میں مصروف رہے۔لیکن تہہ بند بار بار اٹک جاتا تھا۔ه سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ 119