ولادت سے نبوت تک — Page 39
۳۹ بچہ اللہ میاں کیسے اپنے پیارے بندوں کو سمجھاتا ہے۔بڑی حیرت ہوتی ہے۔ایک بات تو بتائیے کہ عرب میں ناچ گانے، شعر و شاعری کی بڑی بڑی مجالس کیوں لگتی تھیں ماں آپ تو پہلے ہی جان چکے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی خدا تعالے آپ کو بتاتا اور سمجھاتا رہا۔پھر اتنی بڑی بات پر کیسے حفاظت نہ کرتا۔اس زمانے میں نہ تو ریڈیو تھا اور نہ ہی ٹی وی کہ کوئی غزل گانے ، قوالی وغیرہ یا پھر کوئی دھن سن لیں۔یا کوئی قصہ کہانی یا ڈرامہ دیکھ سکیں۔اس وقت جب اس طرح کی دلچسپی نہیں تھی۔اس لئے اس زمانے میں شام کے وقت دن بھر کے تھکے ہارے انسان یا تو صحن کعبہ میں جمع ہو جاتے۔اور ٹولیاں بناکر بیٹھتے یا پھر میدانوں میں جہاں کھلے آسمان تلے ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہوتیں ناچ گانے کا لطف اٹھاتے۔یہ اس دور کئے Open Theater" یعنی کھلے سٹیج تھے۔اس کے علاوہ یوں ہی مل بیٹھنے سے اِن کو مکہ سے باہر کی خبروں کا پتہ چلتا۔جو کوئی بھی سفر سے لوٹتا یا کوئی اجنبی آتا تو ایسی مجالس میں ضرور شریک ہوتا تھا۔پھر اپنے خاندانوں کے قابل فخر کارنامے جاننے کا بھی موقع ملتا جو لطف کو اور بھی بڑھا دیتا۔گویا اس طرح شامیں گزارنے میں انہیں اپنے ماضی کے حالات کے ساتھ ساتھ حال کی خبریں بھی معلوم ہوتی رہتیں اور تفریح طبع کا سامان میستر آجانا۔نوعمر افراد ان مجالس میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔بچہ کیا پیارے محمد نے بھی ایسی مجالس میں شرکت کی۔