ولادت سے نبوت تک — Page 77
LL آپ نے وہ سب تقسیم کر دی۔ادھر زندگی کی ضروریات اُدھر قدرت پر غور فکر، لیکن ان تمام باتوں کے باوجود آپ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کام تو کرتے۔اس کے باوجود آہستہ آہستہ آپ کا دل دنیوی کاموں سے اچاٹ ہونے لگا۔آپ کو تنہائی کہ آنے لگی۔آپ کا دل چاہتا کہ کونے میں بیٹھ کر غور کریں کہ یہ دنیا کیوں بنی ؟ اس کو بنانے کی عرض کیا تھی ؟ اس سارے نظام کو کس نے بنایا ؟ وہ عظیم ذات کون ہے ؟ انسان کو کیوں پیدا کیا ؟ آپ کا ومین بار بار اس طرف توجہ دلانا تھا کہ یہ سارا نظام کسی خاص مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے۔کیونکہ اتنے وسیع نظام کا بغیر کسی مقصد کے وجود میں آجانا اور کامیابی سے چلتے چلے جانا ، خالق کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ضرور کوئی بڑی طاقتور ہستی ہے جو اس کار خانہ قدرت کو چلاتی ہے۔بچہ آپ ان سوالوں کا جواب کسی سے پوچھ لیتے۔ماں کس سے پوچھتے ؟ عرب تو جہالت کی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔پھر ان کا باہر کی دنیا سے بھی کوئی رابطہ نہیں تھا۔دوسرے پیارے آقا کا کوئی استاد نہیں تھا۔لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے۔اور نہ ہی آپ کا کوئی ایسا ر ہنما تھا جو آپ کو بتاتا سمجھاتا۔اس کے علاوہ صرف پرانی الہامی کتابیں رہ جاتی ہیں جن سے کچھ پتہ مل سکتا ہو۔لیکن وہ بھی تبدیل ہو گئی تھیں کوئی سبھی تو اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں تھی۔اس لئے آپ خود ہی سوچتے غور کرتے رہتے۔ایسے حالات میں خدا تعالیٰ خود ہی ذہن کو بعض باتیں سمجھا دیا جن کی وجہ سے کبھی