ولادت سے نبوت تک — Page 73
تشریک ہوتا۔بلکہ دکھ کوختم کرنا چاہتا تھا۔واقعی ایسے پیارے اور قابلِ احترام انسان سے تو پیار ہی کرنے کو دل چاہتا ہے۔ماں ایک اور دکھ بانٹنے کا واقعہ بتاتی ہوں۔مکہ میں قحط پڑا جس کی وجہ سے عام گھروں میں بڑی تنگی کے حالات ہو گئے۔حضرت ابو طالب کے حالات تو پہلے ہی تنگ ہو جاتے تھے۔آپ اپنے چچا عبائش کے پاس گئے۔وہ ایک امیر آدمی تھے۔ان سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں۔چچا ابو طالب بڑی مشکل سے گزارہ کر رہے ہیں۔آپ میرے ساتھ چلیں۔ان سے ان کے ایک بیٹے کو مانگ لیتے ہیں۔اس طرح ان پر سے کچھ بوجھ کم ہو جائے گا۔چھا عباس کو یہ بات پسند بھی آئی۔ساتھ ہی وہ سوچنے لگے۔واقعی محمد ہر ایک کے لئے کس طرح بھلائی کی بات سوچتا ہے۔پھر یہ دونوں حضرت ابو طالب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔بچہ آپ کے چچانے کیا جواب دیا۔ماں حضرت ابو طالب نے جب یہ بات سنی تو بولے عقیل کو میرے پاس چھوڑ دو۔ان کو عقیل سے بہت پیار تھا۔کہنے لگے جعفر اور علی کو لے جاؤ۔چنانچہ جعفر کو غباس لے گئے۔اور علی کو آپ اپنے ساتھ لے آئے۔اس وقت حضرت علی کی عمر چھ سات سال تھی یہ اسی دن حضرت علی کی خوش نصیبی کا دور شروع ہوا کہ انہوں نے آپ کے زیر سایہ پرورش پائی۔بچہ پیارے آقا نے بھی اپنے چچا کے سلوک اور محبت کو بڑی شدت سے محسوس کیا تھا۔اس لئے اس محبت کا جواب بھی اسی طرح کی محبت ن سیرت خاتم النبیین جلد اول صفحه ۱۴۴- ۱۴۵