ولادت سے نبوت تک — Page 45
۴۵ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس مقصد (کام) کے لئے پیدا کیا۔اور آپ پر جو ذمہ داریاں ڈالنا چاہتا تھا۔اس کے لئے آپ کا وجود ایک نمونہ کی طرح ہونا ضروری تھا۔ورنہ دنیا کا کوئی بھی انسان کہہ سکتا تھا کہ اس زندگی سے ہم کیسے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جبکہ بچپن کے دور میں یہ کمزوری تھی۔مثلاً مند کرنا ، نافرمانی ، کھانے پر لڑائی ، چھینا جھپٹی، چیخنا چلانا ، یا پھر روٹھ جانا وغیرہ۔لڑکپن میں سچ نہ بولنا کوئی چیز کسی نے رکھنے کے لئے دی تو اس کی حفاظت نہ کرنا یا اگر کھانے کی ہے تو کھا لینا۔وعدہ خلافی۔اپنی بڑائی یا خوبصورتی پر ا ترانا وغیرہ۔ایسی چیزیں ہیں جو عام طور پر بچوں میں نظر آتی ہیں لیکن اس پیارے انسان میں کوئی بُری بات ایسی نہیں تھی جس کو کوئی پیش کر سکے۔آپ کے اخلاق اور کردار کی پاکیزگی اور فطرت کی معصومیت کی گواہی تو دشمنوں نے بھی دی۔بچہ آپ پیارے محمد کے اخلاق اور کردار کے بارے میں بھی کچھ بتائیں۔ماں آپ انتہائی خوش خلق ، غریبوں سے ہمدردی کرنے والے تھے۔اور کردار کے لحاظ سے آپ جیسا کوئی نہ تھا۔زندگی میں کبھی مذاق میں بھی غلط بیانی نہیں کی۔پھر جھوٹ بولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اسی لئے سارے مکہ میں صدیق کہلاتے تھے کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔کھانے کے معاملے میں آپ کی چچی جو حضرت ابو طالب کی بیوی تھیں کہتیں کہ جب میں بچوں کو کھانا دینے لگتی تو سب جمع ہو جاتے اور چاہتے کہ ان کو پہلے دوں اور زیادہ دوں لیکن محمد ایک طرف ہو کر بیٹھ جاتے۔کبھی نہ ملتا تو آپ زمزم سے پیٹ بھر لیتے۔