ولادت سے نبوت تک

by Other Authors

Page 22 of 90

ولادت سے نبوت تک — Page 22

۲۲ کو لے کر حضرت آمنہ کے پاس آئیں۔ان کو پریشان دیکھ کو حضرت آمنہ نے پوچھا کہ حلیمہ کیا بات ہے ؟ تم تو اس کو زیادہ عرصہ رکھنے کے لئے گئی تھیں۔کیا کوئی واقعہ ہوا ہے۔پہلے تو حضرت حلیہ بتانا نہیں چاہتی تھیں۔لیکن جب حضرت آمنہ نے بار بار پوچھا تو انہوں نے سارا واقعہ سنا دیا۔بچہ حضرت آمنہ بھی پریشان ہوگئی ہوں گی۔مالے بالکل نہیں۔انہوں نے حضرت حلیمہ کو جواب دیا کہ حلیمہ تمہارا جو خیال ہے کہ اس بیچے پر کوئی اثر یا جن ہے یہ تو بالکل غلط ہے۔اس کی پیدائش سے پہلے میں نے ایسے خواب دیکھتے ہیں جس سے مجھے یقین ہے کہ میرا بچہ بڑی عظمت اور شان والا ہوگا۔اس پر کسی ایسی چیز کا اثر نہیں ہو سکتا اس لئے تم پریشان نہ ہو۔بچہ پیارا شہزادہ اب مکہ میں اپنی امی کے ساتھ رہے گا۔ماں اب یہ پیارا سا بچہ اپنی امی کے پاس رہنے لگا۔اس کی معصوم مگر پیاری پیاری باتوں نے سارے خاندان کے لوگوں کو اس کا گرویدہ بنا دیا یتیمی جھوٹ نہیں بولتے۔جو پوچھا جاتا۔سچ سچ بتا دیتے۔کبھی بد تمیزی نہیں کی۔بڑوں کا احترام ، ان سے تمیز سے پیار سے بات کرتے، ہرایک کا کام جو اس وقت کر سکتے تھے فوراً خود کر دیتے۔ادھر ادھر کی فضول باتیں نہیں کرتے۔اور گالی یا گندی بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کسی چیز کے لئے بند نہیں کی، جیسے بچے لڑتے جھگڑتے ، شور کرتے ہیں ه سیرت ابن ہشام جلد اول صفحه ۱۱۲