ولادت سے نبوت تک — Page 82
۸۲ زیادہ گھبراتا تو شہر سے باہر ویرانے میں چلے جاتے جنگل کی طرف نکل جاتے ہے لیکن سکون نہیں ملتا تھا۔سکون تو جب ہی مل سکتا ہے جب تلاش کی جانے والی ہستی کو پالیں۔بچہ غار میں کیا کرتے تھے۔ماں غار میں چپ چاپ بیٹھے غور کرتے سوچتے سکائنات کے رازوں کو قدرت کے اشاروں کو۔خدائی نشانوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور پھر اسی نکتے پر آجاتے کہ ان سب کا خالق کون ہے۔اس دوران بعض اوقات حضرت خدیجہ بھی آپ کے ساتھ چلی جاتی تھیں یہ کبھی کھانا بھیجوا دیتیں۔آپ کو اس حالت میں بالکل ڈسٹرب نہ کرتی تھیں نہ ہی آپ کو کبھی پریشان کیا۔کہ ہم سب کو چھوڑ کر یہاں اس دیران غار میں کیا کر رہے ہیں۔حضرت خدیجہ تیری نیک وفا شعار سمجھدار خاتون تھیں۔بچہ جب غار سے نکلتے تو کہاں جاتے۔ماں جب آپ غار سے نکلتے تو سید ھے خانہ کعبہ کا طواف کرتے۔پھر گھر کی راہ لیتے۔راستے میں لوگوں کا حال دریافت کرتے غرباء کی مدد کرتے۔مسکینوں کو کھانا کھلاتے۔پھر گھر میں جب تک اپنے تو سب کا دھیان رکھتے لیکن جب پھر طبیعت گھیرائی تو چلے جاتے بچہ یہ کیفیت کب تک رہی ؟ ماں جب آپ عمر کے چالیسویں سال میں داخل ہوئے تو کثرت سے سچے خواب۔کشف کا ظہور ہونے لگا جو خواب آپ کو دکھائی جاتی۔وہ سیرت خاتم النبیین جلد اول صفحه ۱۴۵