ولادت سے نبوت تک

by Other Authors

Page 13 of 90

ولادت سے نبوت تک — Page 13

آہستہ کے دودھ دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوا تھا اور جس خچر پر آئی تھی وہ بھی کمزور مریل ، اس لئے یہ لوگ قافلہ میں سب سے پیچھے پیچھے آہستہ آرہے تھے۔ان کے ساتھی لوگ مذاق بھی اڑا رہے تھے لیکن یہ چپ چاپ سب کی باتیں سنتے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے۔سارا دن دوسری عورتیں شہر میں گھوم پھرکر بچوں کو لیتی رہیں سب ہی پیارے محمد کو لینا چاہتی تھیں کیونکہ اس کا حسن معصوم چہرہ بڑا پیارا لگ رہا تھا لیکن جب ان کو معلوم ہوتا کہ بچے کا باپ نہیں ہے تو یہ سوچ کر کہ ہماری خدمت کا کون انعام دے گا ، چلی جاتیں کیے ادھر حضرت حلیمے کو کسی نے اس کی غربت کی وجہ سے بچہ نہیں دیا کہ اس کا اپنا بچہ بھی بھور سے روتا رہتا ہے۔ہمارے بچے کا کیا بنے گا۔شام تک نہ تو حلیمہ کو بچہ ملا۔اور نہ ہی پیارے محمد کو کسی نے لیا۔ماں اور دادا حیران تھے لیکن خدا تعالی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔وہ اپنے پیارے کی برکتیں دکھانا چاہتا تھا حضرت حلیمہ اپنے ٹھکانے پر آئیں اور اپنے شوہر سے کہنے لگیں کہ اگر تم اجازت دو تو میں بنو ہاشم کے اس یتیم بچے کو ہی لے آؤں۔کیوں کہ مجھے شہر سے کوئی بچہ نہیں ملا۔اور جب قافلہ روانہ ہوگا تو ساتھی عورتیں میرا مذاق اڑائیں گی۔ان کے شوہر نے کہا۔جیسی تمہاری مرضی۔یہ سُن کر وہ حضرت آمنہ کے پاس آئیں اور پیارے محمد کو مانگ لیا۔جب وہ انہیں لے کر اپنے ٹھکانے پر لوٹیں تو انہیں اندازہ ہوا کہ کوئی نعمت مل گئی ہے کیونکہ اسی رات اونٹنی نے اتنا دودھ دیا کہ دونوں میاں بیوی کا پیٹ بھر گیا۔ادھر بیٹا عبداللہ بھی بھوک سه سیرت ابن ہشام 1 صفحہ ۱۰۹- ۱۱۰ - سه سیرت خاتم النبيين جلد 1 صفحہ 3 صفحہ ۱۲۱