وحی و الہام — Page 62
29 62 تحریر فرماتے ہیں: فَأُنْزِلَ عَلَيَّ عِنْدَ هَذَا الْقَوْلِ قُلْ امَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ عَلَى إبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيْلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاسْبَاطِ وَمَا أُوْتِيَ مُوْسَىٰ وَعِيْسَى ده وَالنَّبِيُّونَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَ نَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ “ 66 (الفتوحات المکیہ جزء3 صفحہ 35) و یعنی اس وقت مجھ پر یہ آیت نازل فرمائی گئی قُلُ آمَنَّا بِاللَّهِ (الاية ) کہ تو کہہ دے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر اتارا گیا اور اس پر بھی جو ابرایم ، اسمعیل ، اسحاقی، یعقوب اور ان کی اولاد پرا تارا گیا اور اس پر بھی ہم ایمان لائے جو موسیٰ اور عیسی اور دوسرے تمام انبیاء کو ان کے رب سے دیا گیا ہم ان پر ایمان میں کوئی فرق نہیں کرتے اور ہم اپنے ربّ کے پورے پورے فرماں بردار ہیں۔یہ پوری آیت قرآنی آپ پر نازل کی گئی اور کون مومن مسلمان ہے جو اس سے انکار کر سکتا ہے؟ پس ہمیں مانا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور ان پر جب بھی ضرورت ہو قر آنی وحی بھی نازل فرما دیتا ہے۔اگر کوئی بدنصیب اس سے محروم ہو اور محروم ہونے کی وجہ سے انکار کرے تو علیحدہ بات ہے۔(۲) حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ہر سالک کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اے انسان! اگر تو نیکی میں ترقی کرتا چلا جائے تو اللہ تعالیٰ تجھے اتنی عزت دے ا تُخَاطَبُ باَنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ أَمِينٌ فتوح الغیب مقالہ 28، صفحہ 171 سورۃ یوسف) 66280 إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنَ اَمِيْنَ “سورہ یوسف کی آیت نمبر 55 ہے جس کا