وحی و الہام — Page 58
58 ہے۔کہ وہ غیب کا جاننے والا ہے پس وہ کسی کو اپنے غیب پر غلبہ عطا نہیں کرتا۔بجز اپنے برگزیدہ بندوں کے۔پھر آپ یہ بھی تحریر فرماتے ہیں: ہم چنانکہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام آن علم را از وحی حاصل مے کر د۔اس بزرگواران بطریق الہام آن علوم را از اصل اخذ می کنند۔علماء اس علوم را از شرائع اخذ کرده به طریق اجمال آورده اند ہماں علوم چنانکه انبیاء علیهم الصلوۃ و السلام حاصل بود تفصیلی و کشفاً ایشان را نیز مہماں و جو ہ حاصل میشود اصالت و تبیعت در میان است به اس قسم کمال اولیاء تمثل بعضی از پیشان از قرون متطاوله و از مند متباعدہ انتخاب مے فر مائند۔(مکتوبات جلد 1 : 40) ترجمہ:۔جیسے نبی کریم ﷺ وہ علوم وحی سے حاصل کرتے تھے، یہ بزرگ الہام کے ذریعہ وہی علوم اصل یعنی خدا تعالیٰ سے حاصل کرتے ہیں اور عام علماء ان علوم کو شریعتوں سے اخذ کر کے بطریق اجمال پیش کرتے ہیں۔وہی علوم جس طرح انبیاء کو تفصیلاً وكشفاً حاصل ہوتے ہیں ان بزرگوں کو بھی انہی طریقوں سے حاصل ہوتے ہیں۔دونوں کے علوم کے درمیان صرف اصالت اور تبعیت کا فرق ہوتا ہے۔ایسے باکمال اولیاء میں سے بعض کو صدیوں اور لمبازمانہ گزرنے پر انتخاب کیا جاتا ہے۔حضرت سید اسمعیل صاحب شہید اپنی کتاب منصب امامت میں تحریر فرماتے ہیں: " باید دانست ازاں جملہ الہام است ہمیں الہام که بانبیاء ثابت است آن را وحی گویند و اگر بغیر ایشاں ثابت مے شود اور اتحدیث مے گویند و گاہے در کتاب اللہ مطلق الہام را خواہ بانبیاء ثابت مے شود خواہ باولیاء اللہ وحی مے نامند۔“ (منصب امامت صفحہ 31) ترجمہ:۔ان تمام امور میں سے ) ایک تو الہام ہے۔اور الہام وہی ہے جو انبیاء سے