وحی و الہام

by Other Authors

Page 53 of 76

وحی و الہام — Page 53

53 جائے گا کہ اب تو ہمارے نزدیک بلند مرتبہ اور امین ہے۔“ کلام الہی اور وحی کی جو اقسام خدا تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں انہیں بیان کرنے کے بعد حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی اپنی کتاب الفتوحات المكية جزء2 صفحہ 236 پر فرماتے ہیں: وَهذَا كُلُّهُ مَوجُودٌ في رِجَالِ اللهِ مِنَ الْاَ وَلِيَاءِ وَالَّذِى احُتُصَّ بِهِ النَّبِيُّ 6 مِنْ هذَا دُونَ الْوَلِي الْوَحُنُ بِالتَّشْرِيع کہ یہ تمام قسم کی وحی اللہ کے بندوں یعنی اولیاء میں پائی جاتی ہے۔ہاں وہ وجی جو نبی کے لئے مخصوص ہے اور ولی کو نہیں ملتی ، تشریعی وحی ہے۔پس ایسی وجی جس میں کوئی نیا حکم مخالف قرآن ہونہ ہیں اترے گی۔اگر کوئی امتی نبی مبعوث ہوتا ہے تو اسے لازماً وحی کا شرف حاصل ہوگا۔اس میں کوئی عقلی اور نفلی روک نہیں۔اس میں لازم ہے کہ کوئی ایسا امر نہ ہو گا جو قرآن مجید کے خلاف ہو۔حضرت عبد الوہاب الشعرانی فرماتے ہیں: إِعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يَجِيُّ لَنَا خَبَرٌ اِلهى أَنَّ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه 66 وسلّم وَحُيَ تَشْرِيعِ اَبَداً إِنَّمَا لَنَا وَحُى الإلهام۔“ (الیواقیت والجواهر جزء 2 صفحہ 84) کہ ہمیں خدا کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد وحی تشریعی کبھی نازل ہوگی البتہ ہمارے لئے وحی الالہام ضرور موجود ہے۔اس میں وحی الالہام کے الفاظ صرف اس لئے استعمال کئے گئے ہیں تاکہ قارئین کرام یہ ملحوظ رکھیں اور ہرگز نہ بھولیں کہ ایسی وحی جس میں کوئی نیا حکم خلاف قرآن مجید نہیں وہی نازل ہو سکتی ہے اور وہ وجی جس میں کوئی نیا حکم ہو خواہ اسے وحی تشریعی کہیں یا وحی نبوت