وحی و الہام

by Other Authors

Page 26 of 76

وحی و الہام — Page 26

26 خلاصہ یہ کہ جسے خدا تعالیٰ اپنا قرب بخشے اور اپنے مکالمہ ومخاطبہ سے نوازے وہ یقیناً ان لوگوں سے زیادہ افضل ہوگا جنہیں یہ باتیں نصیب نہیں بلکہ وہ اس سے استفادہ کر کے روحانی زندگی پاتے ہیں اور دوسرے لوگ ان کے مقابل پر بے روح یعنی مردہ تصو ر ہوتے ہیں۔امام رازی فرماتے ہیں: وَإِنَّ عِبَادَ اللَّهِ الْكَامِلِيْنَ أَقْرَبُ إِلى اللَّهِ تَعَالَىٰ مِنْ عِبَادِهِ النَّاقِصِيْنَ وَ عِبَادَ اللَّهِ الَّذِيْنَ كَلَّمَهُمُ اللَّهُ وَكَلَّمُوْهُ وَ اَرْسَلَهُمْ لِتَكْمِيْلِ عِبَادِهِ فَكَمَّلُوْا أَقْرَبُ إِلَى اللهِ مِنَ الَّذِيْنَ لَمْ يُرْسِلْهُمُ اللَّهُ وَلَمْ يَحْمُلُوا۔“ (التغير الكبير جزء 7 صفحہ 685) کہ خدا تعالیٰ کے کامل بندے ناقص لوگوں کی نسبت خدا سے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور وہ لوگ جن سے اللہ تعالیٰ کلام کرے اور وہ اس سے کلام کریں اور وہ انہیں دوسرے لوگوں کی تعمیل کے لئے بھیجے پھر وہ ایسا کریں بھی تو وہ یقیناً خدا کے زیادہ قریب ہوں گے ان لوگوں کی نسبت جنہیں اللہ تعالیٰ نے مبعوث نہیں فرمایا اور نہ وہ کامل ہوئے۔ایسے لوگ جو خدا تعالیٰ سے سچا تعلق رکھتے ہیں ،اس سے شرف مکالمہ و مخاطبہ پاتے ہیں، اس کے جلال و جمال کا مشاہدہ کرتے ہیں، ان کا علم یقینی ہوتا ہے جس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔اس لئے وہ دنیا کو پکارتے ہیں کہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے اس کہ سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور اسی لئے وہی اُولُو العِلم کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں اور ان کی گواہی ہی ایسی گواہی ہوتی ہے جو سو فیصد سچی ہوتی ہے اور تائیدی نشان اپنے ساتھ رکھتی ہے۔آيت إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيرًا “ کے تحت امام رازی لکھتے ہیں: نَذِيرًا‘ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلِئِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ وَ هُمُ الْأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ