وحی و الہام — Page 27
27 66 السَّلَامُ الَّذِينَ آتَاهُمُ اللهُ عِلْمًا مِنْ عِنْدِ وَ عَلَّمَهُمْ مَا لَمْ يَكُونُوا يَعْلَمُونَ - التفسير الكبير جزء 28 صفحه : 73 سورة الفتح) کہ یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں نے اور اہل علم نے گواہی دی کہ خداے تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، اس فرمان میں اہل علم سے مراد انبیاء علیہم السلام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے نوازا ہوتا ہے اور وہ کچھ سکھایا ہوتا ہے جن سے وہ واقف نہیں ہوتے۔پس روحانیت میں خدا کے نزدیک اہل علم“ کہلانے کے اصل اور حقیقی مستحق انبیاء کرام ہی ہیں۔وہی ہیں جو دنیا میں اعلان کرنے کی جرات کرتے ہیں کہ ان کا خدا زنده خدا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں بھی لوگوں کو یونہی نہیں چھوڑا بلکہ اپنی رحمت کا مظاہرہ فرمایا۔اس نے رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی لَو كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِّن هؤلاء ( صحیح بخاری۔کتاب التفسير باب تفسیر سورۃ الجمعہ) کے مطابق اپنے ایک بندے کو بھیجا جس نے دنیا کو یہ اعلان کرتے ہوئے بلایا کہ: ”ہمارے سید و مولی آنحضرت ﷺ سے تین ہزار سے زیادہ معجزات ہوئے ہیں اور پیشگوئیوں کا تو شمار نہیں۔مگر ہمیں ضرورت نہیں کہ ان گزشتہ معجزات کو پیش کریں بلکہ ایک عظیم الشان معجزہ آنحضرت ﷺ کا یہ ہے کہ تمام نبیوں کی وحی منقطع ہو گئی اور معجزات نابود ہو گئے اور اُن کی اُمت خالی اور تہی دست ہے۔صرف قصے ان لوگوں کے ہاتھ میں رہ گئے مگر آنحضرت کی وحی منقطع نہیں ہوئی۔اور نہ معجزات منقطع ہوئے بلکہ ہمیشہ بذریعہ کاملین امت جو شرف اتباع سے مشرف ہیں ظہور میں آتے ہیں۔اسی وجہ