وحی و الہام — Page 8
8 پڑا اور یہ انکار درحقیقت اسلام سے انکار ہے لیکن چونکہ دل مر چکے ہیں اس لئے یہ لوگ محسوس نہیں کرتے کہ ہم کس حالت میں پڑے ہیں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 311-310) تاریخ انبیاء کے ایک سرسری سے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جب بھی مکفرین نے نبیوں کا انکار کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنا ناتا توڑ دیا۔وہ خواہ اس سے کیسے ہی بڑے مذہبی رہنما و پیشوا تھے۔حضرت عیسی اللہ کے منکرین سے اللہ تعالیٰ نے اپنا نا تا کاٹ کر آپ کے حواریوں سے رشتہ وحی والہام جوڑ لیا۔پھر جب رسول اللہ مبعوث ہوئے تو آپ کے مخالف خواہ عیسائی تھے، یہودی تھے یا مشرک، اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اپنے سے دور کر دیا اور صرف آپ کے صحابہ سے راضی ہو گیا ()۔یہ سنت انبیاء اس موجودہ دور میں پھر دوہرائی گئی۔چنانچہ آئندہ صفحات یہ شہادت دیں گے کہ رسول اللہ ﷺ سے لے کر حضرت مسیح موعود اللہ کے دعوای تک امت میں ملہم من اللہ موجود تھے۔پھر یہ عجیب واقعہ رونما ہوا کہ صرف وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے ، اللہ تعالیٰ ان سے تو ہمکلام ہونے لگا اور وہ جنہوں نے آپ کی تکذیب کی ان سے اپنا رشتہ توڑ دیا۔کیونکہ انہوں نے اس کے مامور کورڈ کر کے خود اپنے ہاتھ سے یہ دروازہ بند کرنے کی جسارت کی تھی۔یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔یہ حضرت مسیح موعود ال کی صداقت کی ناقابل تردید اور اور عملی شہادت ہے کہ جس پر زمانہ خود شاہد ہے، اور جس پر بذات خود مکذبین کا عقیدہ کہ اب کا سلسلہ بند ہے گواہ ہے۔یہ حقیقت ایسی ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ کی مہر تصدیق جلی طور پر ثبت ہے۔