وحی و الہام — Page 9
9 1: وحی والہام از روئے لغت (1) قرآن مجید کی سب سے مستند لغت مُفردات ( تصنیف امام راغب اصفہائی) میں زیر لفظ وحی لکھا ہے:۔أَصلُ الوَحْيِ اَلا شَارَةِ السَّرِيعَةُ وَلِتَضَمُّنِ السُّرْعَةِ قِيلَ أَمْرٌ وَحُيٍّ وَ ذلِكَ يَكُونُ بِالْكَلَامِ عَلَى سَبِيلِ الرَّمْزِ وَالتَّعْرِيضِ وَقَدْ يَكُونُ بِصَوْتٍ مُجَرَّدٍ عَنِ التَّرْكِيبِ وَبِإِشَارَةٍ بِبَعْضِ الْجَوَارِحِ وَ بِالْكِتَابَةِ - 66 وَيَقَالُ لِلْكَلِمَةِ إِلَّا لَهِيَّةِ الَّتِى تُلْقَى إِلَى انْبِيَاءِ هِ وَ أَوْلِيَاءِ؟ وَحُيِّ “ یعنی 9966 وحی کے اصل معنی جلدی اشارہ کے ہیں اور چونکہ اس لفظ میں جلدی سرعت“ کے معنی پائے جاتے ہیں اس لیے کہا جاتا ہے۔امر وحی اور یہ وحی بھی کلام کے ذریعہ بطورا اشارہ اور تعریض کے ہوتی ہے اور کبھی ایسی آواز کے ذریعہ ہوتی ہے جو مرکب الفاظ سے خالی ہو اور کبھی بعض جوارح (اعضاء) کے اشارہ کے ذریعہ ہوتی ہے اور کبھی کتابت کے ذریعہ۔اور وہ الہی کلام کو بھی جو خدا تعالیٰ کے انبیاء اور اولیاء کی طرف پہنچایا جائے وحی کہلاتا ہے۔حدیث کی مشہور لغت نہایہ، ابن الاثیر الجزری میں لکھا ہے: وَقَدْ تَكَرَّرَ ذِكرُ الْوَحْيِ فِي الْحَدِيثِ وَيَقَعُ عَلَى الْكِتَابَةِ وَالْإِشَارَةِ وَالرِّسَالَةِ والاِلهَامِ وَالْكَلَامِ الْخَفِيّ“ کہ لفظ وحی حدیث میں بتکرار آیا اور کتابت، اشارہ ، پیغام، الہام اور مخفی کلام کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔یہی معنی کتاب مجمع بحارالانوار میں بھی مذکور ہیں۔نیز صلى الله ملاحظہ ہو الشَّفَاءُ بِتَعْرِيفِ حُقُوقِ الْمُصْطَفى له جزء 1 صفحہ 191 -