وحی و الہام — Page 69
69 69 :10 مسیح موعود پر نزول وحی امت میں آنے والے مسیح موعود و مہدی معہود کو اللہ تعالیٰ نے رسول اور رسول اللہ ﷺ نے نبی اللہ قرار دیا ہے۔لہذا اس کا کلامِ الہی سے مشرف ہونالازمی تھا۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ " يَقْتُلُ عِيسَى الدَّجَّالَ عِنْدَ بَابِ لُدِ الشَّرْقِي فَبَيْنَمَا هُوَ كَذلِكَ إِذْ أَوْحَى۔66 اللهُ إِلى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ إِنِّي قَدْ اخْرَجُتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِى ـ “ (مسلم کتاب الفتن واشراط الساعة باب ذکر الدجال وصفته ومن معه - مشکوۃ کتاب الفتن باب العلامات بین یدی الساعة - مطبع اصبح المطابع ) کہ موعود عیسی دجال کو باب لد شرقی پر قتل کرے گا اور جب وہ اس حالت میں ہوں گے تو خدا تعالیٰ موعود عیسی پر وحی کرے گا کہ میں نے اپنے بندوں میں سے بعض بندے تیری حمایت میں نکالے ہیں۔اسی طرح حج الکرامہ صفحہ 431 اور اقتراب الساعۃ صفحہ 163 پر حضرت امام سیوطی حضرت حافظ ابن حجر اور دیگر بزرگانِ امت کی تصریحات کی بناء پر لکھا ہے کہ موعود مسیح پر بعد نزول حضرت جبرئیل ان کے ذریعہ وحی نازل ہوگی۔علاوہ ازیں امت میں آنے والے موعود مسیح پر نزول وحی کے بارہ میں چند اور حوالجات ذیل میں درج ہیں: (1) علامہ ابن الحجر انتیمی سے جب پو چھا گیا کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اس پروجی نازل ہوگی؟ تو انہوں نے جواب دیا: نَعَمْ يُوحَى إِلَيْهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَحَى حَقِيقِيُّ كَمَا فِي حَدِيثِ مُسْلِم “ (روح المعانی جزء 22 صفحہ 41 زیر آیت خاتم النبیین )