وحی و الہام

by Other Authors

Page 49 of 76

وحی و الہام — Page 49

49 صفحہ 134) بعض لوگ کہتے ہیں کہ اولیاء کی وحی ظنی ہوتی ہے مگر دیکھئے موٹی کی والدہ پر جو وحی نازل ہوئی اس نے اسے کیسا یقین دلایا اور یہ کتنی شاندار وحی ہے۔اس میں دو باتوں کا حکم دیا گیا، پھر دو باتوں سے منع فرمایا گیا ہے پھر دو خوشخبریاں دی ہیں، سبحان الله الـعـظـيـم۔اور پھر کس خوبی سے یہ وحی کچی ثابت ہوئی ؟ اور کس یقین سے موسی کی والدہ کا دل یقین سے بھر گیا اور اس نے اس پر عمل کیا۔اگر یہ وحی الہی یقینی نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ ماں اپنے بیٹے کو دریا میں ڈالنے پر آمادہ ہو جاتی۔یہ وحی کا کرشمہ تھا کہ وہ ایسی باتیں کر گزری جن کی ایک ماں سے از خود ہرگز امید نہ کی جاسکتی تھی۔اسی وحی کا نتیجہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے اس پر اپنی خاص رحمت نازل فرمائی اور اسے اپنے وعدہ کے مطابق ماں سے واپس ملا دیا۔قرآن کریم بھی آیت " إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ “ میں استقامت دکھانے والے مومنوں کی وحی کو، ان سے جو کہ تحقیق جملہ کے لئے استعمال ہوتا ہے مؤکد کر کے یقینی قرار دیتا ہے۔(۲) قرآن کریم میں ہی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہاں مونٹی پر اور ان کی ماں پر یقینی وحی نازل فرمائی، وہاں حضرت عیسی اور آپ کی ماں پر جو وحی نازل ہوئی وہ بھی یقینی تھی۔وجی کی برکت سے ہی مریم کا دل تھم گیا اور ڈھارس بندھ گئی اور اسی وحی کے طفیل اس نے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کیا اور خدا کے حضور میں وہ عزت پائی جو بہت کم مردوں کے حصہ میں آتی ہے فرمایا: فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمُ حِجَابَاً فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيّاً قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَن مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيَّا هِ قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ