وحی و الہام — Page 7
فاتحہ میں ہے۔ساتھ ہی اُس نے یہ ارادہ بھی فرمایا ہے کہ اس امت کو وہ نعمت عطا بھی کرے جو نبیوں کو دی گئی تھی یعنی مکالمه مخاطبہ الہیہ جو سر چشمہ تمام نعمتوں کا ہے۔کیا خدا تعالیٰ نے وہ دعا سکھلا کر صرف دھوکا ہی دیا ہے اور ایسی ناکارہ اور ذلیل امت میں کیا خیر ہو سکتی ہے جو بنی اسرائیل کی عورتوں سے بھی گئی گزری ہے۔ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کی ماں اور حضرت عیسی کی ماں دونوں عور تیں تھیں اور بقول ہمارے مخالفین کے تنبیہ نہیں تھیں تا ہم خدا تعالیٰ کے یقینی مکالمات اور مخاطبات ان کو نصیب تھے اور اب اگر اس امت کا ایک شخص اس قدر طہارت نفس میں کامل ہو کہ ابراہیم کا دل پیدا کر لے اور اتنا خدا تعالیٰ کا تابعدار ہو جو تمام نفسانی چولا پھینک دے اور اتنا خدا تعالیٰ کی محبت میں محو ہو کہ اپنے وجود سے فنا ہو جائے تب بھی وہ باوجود اس قدر تبدیلی کے موسٹی کی ماں کی طرح بھی وہی ابھی نہیں پاسکتا کیا کوئی عقلمند خدا تعالیٰ کی طرف ایسا بخل منسوب کر سکتا ہے۔اب ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الكَاذِبِينَ اصل بات یہ ہے کہ جب ایسے لوگ سراسر دنیا کے کیڑے ہو گئے اور اسلام کا شعار صرف پگڑی اور داڑھی اور ختنہ اور زبان سے چند اقرار اور رسمی نماز روزہ رہ گیا تو خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مسخ کر دیا اور ہزار ہا تاریکی کے پردے آنکھوں کے آگے آگئے اور دل مر گئے اور کوئی زندہ نمونہ روحانی حیات کا اُن کے ہاتھ میں نہ رہا نا چار ان کو مکالمات الہیہ سے انکار کرنا