وحی و الہام — Page 6
6 کی پیشگوئیوں کے مطابق بطور مسیح موعود و مہدی معہود مبعوث فرمایا۔اس نے آپ کو اسی طرح چن لیا جس طرح اس نے پہلے انبیاء علیہم السلام کو چنا تھا۔اس نے آپ کو شرف مکالمہ و مخاطبہ سے سرفراز فرمایا اور وہ آپ سے اسی طرح ہمکلام ہوا جس طرح وہ پہلے مرسلین علیہم السلام سے ہوتا آیا تھا۔آپ پر بھی انبیائے گزشتہ کی مانند روح القدس کا نزول ہوا۔فرق صرف یہ تھا کہ آپ کی وحی والہام اور آپ کا منصب و مقام رسول اللہ ﷺ کی کامل اتباع فیض کامل اور آپ کی قوت قدسیہ کی تاثیر کے راستے تھا اور اسی کے تحت تھا۔رسول اللہ ﷺ کی اس تاثیر روحانی کے جلوہ کی وجہ سے آپ کی وحی ایک امتیازی شان کی حامل تھی۔آپ سے اللہ تعالیٰ کا الہام و کلام کتاب ”تذکرہ میں محفوظ ہے۔عملاً اور واقعہ یہ کتاب ان لوگوں کا جواب بھی ہے جو ایسے منافی اسلام عقیدے رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے بعد د روحی والہام مقفل کر دیا ہے۔انہی لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود الله فرماتے ہیں: بعض خشک ملاؤں کو یہاں تک انکار میں غلو ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مکالمات الہیہ کا درواز وہی بند ہے اور اس بد قسمت امت کے یہ نصیب ہی نہیں کہ یہ نعمت حاصل کر کے اپنے ایمان کو کامل کرے اور پھر کشش ایمانی سے اعمال صالحہ کو بجالا وے۔ایسے خیالات کا یہ جواب ہے کہ اگر یہ امت در حقیقت ایسی ہی بد بخت اور اندھی اور شتر الامم ہے تو خدا نے کیوں اس کا نام خیر الام رکھا بلکہ سچ بات یہ ہے کہ وہی لوگ احمق اور نادان ہیں کہ جو ایسے خیالات رکھتے ہیں ورنہ جس طرح خدا تعالیٰ نے اس امت کو وہ دعا سکھلائی ہے جو سورۃ