وحی و الہام — Page 20
20 میں کبھی سمع میں۔شامہ میں اس طرح جیسے کہ حضرت یوسٹ کے والد نے کہا إِنِّي لَا جِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلَا أَنْ تُفَيِّدُون (سوره یوسف : 95 - کہ مجھے یوسف کی خوشبو آتی ہے۔اگر تم یہ نہ کہو کہ بوڑھا بہک گیا ) اس سے مراد وہی نئے حواس ہیں جو کہ یعقوب کو اس وقت حاصل ہوئے اور انہوں نے معلوم کیا کہ بہت زندہ موجود ہے اور ملنے والا ہے۔اس خوشبو کو دوسرے پاس الے نہ سونگھ سکے کیونکہ ان کو وہ حواس نہ ملے تھے جو کہ یعقوب کو ملے۔جیسے گڑ سے شکر بنتی ہے اور شکر سے کھانڈ اور کھانڈ سے اور دوسری شیر میاں لطیف در لطیف بنتی ہیں۔ایسے ہی رؤیا کی حالت ترقی کرتی کرتی کشف کا رنگ اختیار کرتی ہے اور جب وہ بہت صفائی پر آجاوے تو اس کا نام کشف ہوتا ہے۔لیکن وحی ایسی شئے ہے جو کہ اس سے بدرجہا بڑھ کر صاف ہے اور اس کے حاصل ہونے کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے۔کشف تو ایک ہند و کو بھی ہوسکتا ہے۔بلکہ ایک دہر یہ بھی جو خدا تعالیٰ کو نہ مانتا ہو وہ بھی اس میں کچھ نہ کچھ کمال حاصل کر لیتا ہے۔لیکن وحی سوائے مسلمان کے دوسرے کو نہیں ہوسکتی۔یہ اسی امت کا حصہ ہے۔کیونکہ کشف تو ایک فطرتی خاصہ انسان کا ہے اور ریاضت سے حاصل ہوسکتا ہے خواہ کوئی کرے۔کیونکہ فطرتی امر ہے۔جیسے جیسے کوئی اس میں مشق اور محنت کرے گا ویسے ویسے اس پر اس کی حالتیں طاری ہوں گی اور ہر ایک نیک و بد کورڈ یا کا ہونا اس امر پر دلیل ہے۔دیکھا ہوگا کہ کچی خوا ہیں بعض فاسق و فاجر لوگوں کو بھی آجاتی