وحی و الہام — Page 19
19 تیزی اور شوکت کے ساتھ ایک لذیذ کلام زبان پر جاری ہوتا ہے جو کسی فکر، ساتھ لذیذ پر تدبر اور وہم و خیال کا نتیجہ نہیں ہوتا۔اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کے نشانات ہزاروں ہیں۔اگر کوئی چاہے تو اب بھی کم از کم چالیس روز ہمارے پاس رہے اور نشان دیکھ لے۔صادق اور کاذب میں خدا تعالیٰ فرق کر دیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 196 ) خواب ( رؤیا)، کشف اور وحی میں فرق اوپر حضرت حافظ ابن قیم اور حضرت امام راغب کی تحریرات میں رویا اور خواب کو بھی وحی کی ایک قسم قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح کشف بھی ایک حقیقت ہے جو رڈیا کی ایک اعلی قسم ہے۔ان میں اور وحی میں فرق کیا ہے، حضرت مسیح موعود ال بیان فرماتے ہیں: " کشف کیا ہے؟ یہ رویا کا ایک اعلیٰ مقام اور مرتبہ ہے۔اس کی ابتدائی حالت کہ جس میں غیبت حس ہوتی ہے،صرف اس کو خواب (رویا) کہتے ہیں۔جسم بالکل معطل بیکار ہوتا ہے اور حواس کا ظاہری فعل بالکل ساکت ہوتا ہے۔لیکن کشف میں دوسرے حواس کی غیبت نہیں ہوتی۔بیداری کے عالم میں انسان وہ کچھ دیکھتا ہے جو کہ وہ نیند کی حالت میں حواس کے معطل ہونے کے عالم میں دیکھتا تھا۔کشف اسے کہتے ہیں کہ انسان پر بیداری کے عالم میں ایک ایسی ربودگی طاری ہو کہ وہ سب کچھ جانتا بھی ہو اور حواسِ خمسہ اس کے کام بھی کر رہے ہوں اور ایک ایسی ہوا چلے کہ نئے حواس اسے مل جاویں جن سے وہ عالم غیب کے نظارے دیکھ لے۔وہ حواس مختلف طور سے ملتے ہیں۔کبھی بھر میں، کبھی شامہ سونگھنے