وحی و الہام — Page 18
18 وحی اس گروہ کے خیال کے مطابق ہوئی جو یہ مانتا ہے کہ آپ نے جاگتے ہوئے خدا تعالیٰ کو دیکھا تھا اور خدا تعالیٰ کو جاگتے دیکھنے کا یہ مسئلہ سلف وخلف کے نزدیک مختلف فیہ ہے۔گو جمہور صحابہ بلکہ تمام کے تمام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہیں جیسا کہ عثمان بن سعید دارمی نے اسے اجماع قرار دیا ہے۔(کہ نبی کریم ﷺ نے خدا تعالیٰ کو عالم بیداری میں کبھی ان جسمانی آنکھوں سے نہیں دیکھا )۔مفردات میں امام راغب فرماتے ہیں: ” فَالْإِلْهَامِ وَالتَّسْخِيْرُ وَالْمَنَامُ دَلَّ عَلَيْهِ قَوْلُهُ إِلَّا وَحْياً وَ سَمَاعُ الكَلَامِ دَلَّ عَلَيْهِ أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَتَبْلِيْغُ جِبْرِيلَ فِي صُورَةٍ مَعَيَّنَةٍ دَلَّ عَلَيْهِ أَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا۔“ " یعنی وخباً میں الہام تسخیر اور خواب والی وحی شامل ہے۔مِنُ وَرَاءِ حِجَابٍ میں وہ وحی شامل ہے جس میں صرف کلام الہی سنائی دے۔يُرْسِلَ رَسُولاً میں وہ وحی جس میں فرشتے کا واسطہ ہو اور اس کے ذریعہ پہنچے۔اس طرح وہ مذکورہ بالا آٹھ قسم کی وحی ان تین طریق سے ملہم تک پہنچ جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود الا اپنے تجربہ کی بنیاد پر نزول وحی کے طریق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بعض دفعہ وحی اس طرح پر نازل ہوتی ہے کہ کوئی کاغذ یا پتھر وغیرہ دکھایا جاتا ہے جس پر کچھ لکھا ہوا ہوتا ہے۔‘“ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 7) پھر اس سوال کے جواب میں کہ جی کس طرح ہوتی ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: کئی طریق ہیں۔بعض دفعہ دل میں ایک گونج پیدا ہوتی ہے کوئی آواز نہیں ہوتی۔پھر اس کے ساتھ ایک شگفتگی پیدا ہوتی ہے اور بعض دفعہ