وحی و الہام — Page 12
12 ظاہر ہے کہ رویا صادقہ وحی کی ایک قسم ہے اور حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ رسول الله روحی کا آغاز رویائے صادقہ سے شروع ہوا تھا۔پس و حیا کے متعلق ان تحریروں سے واضح طور پر ان لوگوں کے وہم کا ازالہ ہو جاتا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ الہام یا خواب ، وحی میں شامل نہیں۔دوسرا طریق: مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ پس پردہ کلام کا ہے۔تیسرا طریق : يُرْسِلَ رَسُولاً که خدا تعالیٰ فرشتہ کو بھیجے اور وہ آکر رسول یا ولی کو خدا تعالیٰ کا کلام پہنچائے۔حضرت امام رازی رحمہ اللہ نے ان تینوں طریقوں کو یوں بیان فرمایا ہے: " وُ صُولُ الْوَحِي مِنَ اللَّهِ إِلَى الْبَشَرِ إِمَّا أَنْ يَكُونَ مِنْ غَيْرِ وَاسِطَةِ مُبَلِّغ اَوْ يَكُونُ بِوَاسِطَةِ مُبَلّغ۔- اَمَّا الأَوَّلُ وَهُوَ أَنَّهُ وَصَلَ إِلَيْهِ الْوَحُنُ لَا بِوَاسِطَةِ شَخْصِ اخَرَ وَمَا سَمِعَ عَيْنَ كَلَامِ اللهِ فَهُوَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ إِلَّا وَحْيا وَأَمَّا الثَّانِي وَهُوَ أَنَّهُ وَصَلَ إِلَيْهِ الْوَحْيُ لَا بِوَاسِطَةِ شَخْصِ اخَرَ وَ لَكِنَّهُ سَمِعَ عَيْنَ كَلَامِ اللَّهِ فَهُوَ الْمُرَادُ مِنْ قَوْلِهِ أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَ أَمَّا الثَّالِثُ وَهُوَ أَنَّهُ وَصَلَ إِلَيْهِ بِوَاسطَةِ شَحُصٍ اَخَرَ فَهُوَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ أَوْ يَرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ “ 66 التفسير الكبير سورة الشورای زیر آیت وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ جلد 27 صفحہ 160 ) یعنی خدا تعالیٰ کی وحی کسی انسان تک یا تو بغیر کسی مبلغ کے پہنچتی ہے یا کسی مبلغ (پہنچانے والےفرشتے) کے ذریعہ۔اگر تو و ہ وحی بغیر کسی مبلغ (فرشتے) کے پہنچے اور وہ شخص الفاظ ابھی بھی نہ سنے تو وہ وحی کہلائے گی۔