وحی و الہام — Page 13
13 اور اگر وہ وحی کسی مبلغ کے بغیر پہنچے لیکن اس میں خدا کے الفاظ سنے تو وہ من وَرَاءِ حِجَابٍ میں داخل ہوگی۔اور اگر وہ لفظی وحی کسی مبلغ (فرشتے) کے ذریعہ پہنچے تو وہ يُرْسِلَ رَسُولًا کی شق میں شامل ہوگی۔آخر میں حضرت امام رازی ایک انتہائی اہم بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: " وَاعْلَمْ أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ هَذِهِ الْأَقْسَامِ الثَّلَثَةِ وَحْيٌ إِلَّا أَنَّهُ تَعَالَى خَصَّصَ الْقِسْمَ الْأَوَّلَ بِاسْمِ الْوَحْيِ لِاَنَّ مَا يَقَعُ فِي الْقَلْبِ عَلَىٰ سَبِيْلِ الْإِلْهَامِ 66 فَهُوَ يَقَعُ دَفْعَةً فَكَانَ تَخْصِيْصُ لَفْظِ الْوَحْيِ بِهِ أَوْلَى (ايضا) یعنی معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تینوں قسم کا کلام وحی کہلاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے صرف پہلی قسم کو وحی قرار دیا ہے کیونکہ جو کلام بذریعہ الہام آتا ہے وہ دفعہ دل میں پڑتا ہے ، اس لئے اسے بالخصوص وحی کا نام دینا زیادہ مناسب ہے ( یعنی اسے اس کے لغوی معنوں سے زیادہ مناسبت ہے) قریباً یہی مضمون تفسیر الخازن ( جزء 6 صفحہ 107 ) ، تفسیر ابن کثیر ( جلد 4 صفحہ 122،121 ) اور تفسیر الصاوی وغیرہ میں بھی موجود ہے۔انبیاء کے تابعین بطریق الہام جو علوم اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتے ہیں وہ الہام بھی وہی ہی کی قسم ہے۔بلکہ الہام کا لفظ وحی کے مقابل صرف لایا انہی سے بچانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ اُسے وحی تشریعی نہ سمجھ لیا جائے۔حقیقت میں یہ الہام ، وحی غیر تشریعی ہی ہوتا ہے۔خواہ وہ علوم شریعت یعنی اوامر ونواہی پر ہی مشتمل ہو یا امور غیبیہ پر۔