وحی و الہام

by Other Authors

Page 10 of 76

وحی و الہام — Page 10

10 لغت کی مشہور کتاب المنجد میں ہے: (وَحَىٰ يَحيَ وَحُيا) إِلَى فُلَانِ: أَشَارَ إِلَيهِ: اس کی طرف اشارہ کیا۔اَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولًا: اس کی طرف پیغامبر (ایچی ) بھیجا۔وَحَى إِلَيْهِ أَوْ وَحَى إِلَيْهِ كَلَامًا : كَلَّمَهُ سِرًّا اَوْ كَلَّمَهُ بِمَا يُخْفِيهِ عَنْ غَيْرِهِ کہ اس سے پوشیدہ پوشیدہ کلام کیا ، یا اس سے ایسی بات کی جو دوسرے سے مخفی رکھی جائے۔وَحَسی اللهُ فِي قَلْبِهِ كَذَا : أَلْهَمَهُ إِيَّاهُ : اللہ نے اسے الہام کیا۔اس کے دل میں کچھ ڈالا۔وَحَى الْكِتَابَ : كَتَبَهُ : کتاب کو لکھا۔وَحَى النَّبِيْحَةَ : ذَبَحَهَا بِسُرْعَةٍ : اسے جلدی سے ذبح کیا۔ان حوالہ جات سے وحی کے لغوی معنے واضح ہو جاتے ہیں کہ ایسا کلام جس میں سرعت ، اخفاء ، راز و نیاز دل میں کوئی خیال ڈالنے کے ہیں اور جہانتک اصطلاح شرع میں وحی کے معنوں کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ کلام الہی ہے جو انبیاء اور اولیاء پر اتارا جا تا ہے۔حضرت مسیح موعود اللہ فرماتے ہیں: الہام ایک القاء غیبی ہے کہ جس کا حصول کسی طرح کی سوچ اور تر ڈد اور تفکر اور تدبر پر موقوف نہیں ہوتا اور ایک واضح اور منکشف احساس ہے کہ جیسے سامع کو متکلم سے یا مضروب کو ضارب سے یا ملموس کو لامس سے ہو محسوس ہوتا ہے اور اس سے نفس کو مثل حرکات فکریہ کے کوئی الم روحانی نہیں پہنچتا بلکہ جیسے عاشق اپنے معشوق کی رویت سے بلا تکلف انشراح اور انبساط پاتا ہے ویسا ہی روح کو الہام سے ایک ازلی اور قدیمی رابطہ ہے کہ جس سے روح لذت اٹھاتا ہے۔غرض یہ ایک منجانب اللہ اعلام لذیذ ہے کہ جس کو نفث فی الروع اور وحی بھی کہتے ہیں۔“ پرانی تحریر ہیں۔روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 20)