وحی و الہام

by Other Authors

Page 65 of 76

وحی و الہام — Page 65

65 ٣ وَمَا أَنْتَ بِهَادِ الْعُمْي عَنْ ضَلَا لَتِهِمْ (علم الكتاب: 64) (۵): جہاں تک کسی امتی پر ان آیات قرآنیہ کے الہاما نزول کا تعلق ہے جن میں خالصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب فرمایا گیا ہے تو مولوی عبدالجبار غزنوی صاحب جو جماعت احمدیہ کے شدید مخالفوں میں سے تھے، بڑی وضاحت سے اپنی کتاب "اثبات الإلهام والبيعَةِ " میں اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔ان کی یہ تحریر ان لوگوں کے جواب میں ہے جو بر صغیر کے مشہور اور صاحب کشف والہام بزرگ حضرت مولوی عبداللہ غزنوی صاحب کے ان الہامات پر اعتراض کرتے تھے جو قرآنی آیات پر مشتمل تھے اور ان میں خالصہ آنحضرت کو خطاب فرمایا گیا۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں: اگر الہام میں اس آیت کا القاء ہوجس میں خاص آنحضرت ﷺ کو خطاب ہو تو صاحب الہام اپنے حق میں خیال کر کے اس مضمون کو اپنے حال کے مطابق کرے گا اور نصیحت پکڑے گا۔اگر کوئی شخص ایک آیت کو جو پروردگار نے جناب رسول اللہ ﷺ کے حق میں نازل فرمائی ہے، اسے اپنے پر وارد کرے اور اس کی امرونہی اور تائید و ترغیب کو بطور اعتبار اپنے لئے سمجھے تو بے شک وہ شخص صاحب بصیرت اور مستحق تحسین ہوگا۔اگر کسی پر ان آیات کا القاء ہو جن میں خاص آنحضرت ﷺ کو خطاب ہے مثلاً المْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ۔کیا نہیں کھولا ہم نے واسطے تیرے سینہ تیرا۔وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى ، فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللَّهُ - فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاوةِ وَ الْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ـ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ - وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبِعْ هَوْهُ - وَوَجَدَكَ ضَالًا فَهَدَى ـ تو بطريق اعتبار یہ مطلب نکالا جائے گا کہ انشراح صدر اور رضا اور انعام ہدایت جس لائق یہ ہے علی