وفات مسیح اور احیائے اسلام

by Other Authors

Page 15 of 72

وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 15

۱۵ خاکی جسم سمیت اُڑ کر آسمان تک جا ہی نہیں سکتا چنانچہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ کفارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تو ہمیں آسمان پر چڑھ کر دکھا تب تم ایمان لائیں گئے۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُل سبحان رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً ، ربنی اسرائیل: آیت (۹۴) یا رسول اللہ تو کہدے کہ میرا خدا اس سے پاک تری ہے کہ اس دار الا بلاء میں کھلے کھلے نشان دکھلاؤ اور میں محض بشر رسول ہوں اور بشر رسول پرواز کر کے آسمانوں پر نہیں جایا کرتے نہ جا سکتے ہیں۔مغز نہ حضرات ! میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے دانشور منفکر اور دینی را ہنما قرآن مجید کی اس آیت کریمہ پر خوب غور و تد تبر کریں اور اس اہم نکتہ پر غور فرمائیں کہ راکٹ خلائی جہانہ اور چاند گاڑی کی ایجادیں اس زمانہ میں ہوئی ہیں یہی وجہ ہے کہ نہ تو عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت شیخ کسی جہاز پر بیٹھ کے آسمانوں پر گئے ہیں اور نہ کفار ہی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آپ مشینی آلانہ کے ذریعہ آسمان پر تشریف لے جائیں۔دونوں کے مد نظر مجرد خاکی جسم کے ساتھ اُڑ کے آسمان پر پہنچنے کا خیال کار فرما تھا اور اسی خیال کو قرآن مجید نے باطل ٹھہرایا ہے اور بتایا ہے کہ کسی بشر رسول کا بجسد عنصری زندہ آسمان پر چڑھ جانا خدا کی انزلی سنت کے صریحاً خلاف ہے اور کسی ماں نے ایسا بیٹا ہی نہیں جنا نہ قیامت تک جن سکتی ہے جو اس قرآنی صداقت کو غلط ثابت کر سکے۔اس تعلق میں خدا کی پاک کتاب نے یہ ازلی قانون بھی بیان فرمایا ہے : وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَ مَتَاعٌ إِلى حِينٍ ، (بقره آیت ۳۷) یعنی تم اپنے جسم خاکی کے ساتھ زمین میں ہی رہو گے یہاں تک کہ اپنے