وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 14
۱۴ میں ذکر کیا ہے۔فرماتا ہے کہ قیامت کو خدا تعالیٰ میسی سے پوچھے گا کہ کیا تونے اپنی قوم کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانا کہ تو وہ جواب دیں گے وكُنتُ ما دمتُ فِيهِم كنت انت الرقيب عَلَيْهِمْ (المائدة: آيت (۱۱) یعنی جب تک میں اپنی قوم میں تھا میں اُن کو ہی تعلیم دیتا رہا کہ خدا ایک ہی ہے اور میں اس کا رسول ہوں ، پھر جب تو نے مجھے وفات دیدی تو بعد اس کے مجھے اُن کے عقائد کا کچھ علم نہیں۔اس آیت میں توکی کا لفظ حضرت مسیح ابن مریم کے بیان کی کلید ہے۔جس کے معنے ہمارے آقا ہمارے مولی پیغمبر خدامحمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم رنداہ ابی و اتی) نے اپنی زبان مبارک سے وفات ہی کئے گئے ہیں۔چنانچہ بخاری ، کتاب التفسیر جلد ۲ صفحہ ، میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یں بھی قیامت کے دن دہی کہوں گا جو بیج ابن مریم نے کہا ہے یعنی وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّيْبَ عَلَيْهِم سعی میں جتك یعنی ان میں تھا اُن پر گواہ تھا پھر جب تو نے مجھے وفات دیدی تو اس وقت تو ہی انکا نگهبان ، نگران اور محافظ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تفسیر سے بالکل واضح ہو گیا کہ حضرت عیسی عیسائیوں میں شرک پھیل جانے سے قبل یقینی طور پر وفات پاچکے تھے۔قرآن مجید کی ایک علمی کرامت یہ ہے کہ اُس نے ایک طرف حضرت شیح کے لیے رفع الی السماء کی بجائے رفع الی اللہ کا نظریہ پیش کیا ہے اور آپ کی نسبت کہیں بھی "حسم عنصری اور زندہ اور آسمان کے الفاظ استعمال نہیں گئے۔دوسری طرف کلام اللہ نے یہ موقف پیش کیا ہے کہ کوئی بشر اور رسُول محض اپنے "