وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 69
۶۹ پر مین یونیورسٹی کی ایک فاضل عیسائی لیکچرار نے بی بی سی لندن سے تقریر کی کو سیوری میسج کے آسمان پر جانے کا خیال محض ڈھونگ ہے۔نوائے وقت" ۲۰ جنوری دار است اور مشہور عیسائی محقق را بوٹ گریوز اور جوشوا پوڈرو ROBERT) GRAVES & JOSHUA PODRO) نے تاریخی اور سائنسی شواہد سے ثابت کیا کہ حضرت مسیح کے گوشت پوست والے جسم میں میکانکی امداد کے بغیر پروانہ نامکن تھی اور اُن کے جسم کے فوری طور پر غیر مادی صورت میں تبدیل ہونے کے نتیجہ میں ایسی طاقت پیدا ہونا لازمی تھی جو یہ ظلم اور فلسطین کو تباہ کر سکے رکھ دیتی اور یہ ایک حادثہ ہے جو تاریخی طور پر وقوع پذیر نہیں ہوا۔پس اُن کے آسمان پر جانے کا خیال تو ہری طبعیات کے منافی ہے۔(Jesus in Rome) عیسائی پادری قریباً پون صدی سے تبر مسیح کو فرضی بیو ترے کا نام دیگر مذاق اڑا رہے تھے، لیکن اب دنیا بدل چکی ہے کیونکہ محمدرسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے قادر اور زندہ ندا نے یورپ کے تثلیث کروں میں لیڈس لاؤ فلپ ایم ڈی پیراک ( LADISLAV FILLIP M۔D) ریجنالڈ چارلس سکا فیلڈ چیکوسلوا گیا النگان (REGINALD CHARLES EVERARD SKOL FIELD) اور انڈر پائی خیر کا ٹیزر (ANDREAS FABER KAISER) جیسے محقق و منکر پیدا کر دیتے ہیں جنہوں نے لندن کی تاریخی کسر صلیب کا نفرنس کے دوران فاضلانہ مقالے پڑھے اور جو ذاتی تحقیق کے بعد اس قطعی نتیجہ تک پہنچے ہیں کہ حضرت مسیح کی قبر یقینا سرینگر میں ہے۔مسٹر سکا لفیلڈ نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ اس تحقیق کا سہرا حضرت بانی احمدیت کے سر ہے جنہوں نے اس مقبرہ کی نشان دہی کی اور اپنی بصیرت سے کام لے کر تمام تعصبات کا پردہ چاک کر دیا۔مبر کا ٹیزر موازنہ مذہب کے مشہور ہسپانوی سکالر ہیں آپ قبر مسیح کی