وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 57
اور چھت گرمی پیس اسی طرح اس واقعہ کے ثبوت سے عیسائی مذہب کا خاتمہ ہے۔خدا ہو چاہتا ہے کرتا ہے۔اپنی قدرتوں سے وہ پہچانا گیا ہے۔دیکھو کیسے عمدہ معنے اس آیت کے ثابت ہوئے کہ مَا قَتَلُوهُ د مَا صَلَبُوهُ وَلكِن شُبّه لَهُمْ یعنی قتل کرنا اور صلیب سے مسیح کا مارنا سب جھوٹ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو دھوکا لگا ہے اور مسیح خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق صلیب سے ینچ کر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔اگر عیسائیوں میں کوئی فرقہ دینی تحقیق کا جوش رکھتا ہے تو ممکن ہے کہ ان ثبوتوں پر اطلاع پانے سے وہ بہت جلد عیسائی مذہب کو الوداع کہیں اور اگر اس تلاش کی آگ یورپ کے تمام دلوں میں بھڑک اٹھے تو جو گروہ چالیس کروڑ انسان کا انہیں سو برس میں طیار ہوا ہے ممکن ہے کہ انھیں ماہ کے اندر دست غیب سے پلٹا کھا کر مسلمان ہو جائے " درانه حقیقت صفحه ۱۲ - ۱۴ حاشیه مطبوعه ۱۳۰ تو میر شه ) لكن شبه لهم " کی حقیقت افروز تغییر حضرت مہدی موعود علیہ السلام نے آیت لکن مشتبہ لھم کی حقیقت افروز تفسیر بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا : رہا ر با لفظ مشتبہ بھی سو اس کے دو معنے نہیں ہیں جو سمجھے گئے وہ ہیں اور نہ ان معنوں کی تائید میں قرآن اور احادیث نبویہ سے کچھ پیش کیا گیا ہے بلکہ یہ معنے ہیں کہ موت کا وقوعہ ہو دیوں پر مشتبہ کیا گیا وہ یہی سمجھ بیٹھے کہ ہم نے قتل کر دیا ہے حالانکہ میسح قتل ہونے سے بچ گیا