وفات مسیح اور احیائے اسلام

by Other Authors

Page 44 of 72

وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 44

اس گروہ نے مسلمانوں کی را بزنی کے لیے استعمال نہیں کیا۔ہزار ہا واعظ اور منا دنیا بھر میں چھوڑ دیئے گئے اور تمام مقدسوں کے فخر تمام مقربوں کے سرتاج اور تمام بزرگ رسولوں کے سردار حضرت خد مصطفے صلی الہ علیہ جسم ما ر میں سختی اور اسلام کی تکذیب کے لیے صرف اکیس سال میں سات کروڑ سے کچھ نہ یہ کتابیں مفت تقسیم کی گئیں جن کو ایک جگہ ڈھیر کیا جائے تو اُس کی مہندی ایک ہزار فٹ سے بھی جو بنائے اور اس کی ضخامت کئی پہاڑوں کے برابر ہو جائے۔ان کتابوں میں مندا کے پاک رسوں خُدا کے پاک دین کی وہ تو مین کی گئی ہو ابتدائے دنیا سے لیکر آج تک کسی بر گزیدہ کی نہیں کی گئی۔ان ساحرانہ کارروائیوں سے متاثر ہو کر لاکھوں مسلمان مرتد ہو گئے اور وہی جو ہمارے ستید و مولی احضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بغیر درود پڑھنے کے نہیں لیتے تھے۔ارتداد کا جامہ پہننے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گندی گالیاں دینے لگے شاہی نمائندنوں کے افراد اور بڑے بڑے ولیوں بزرگوں در سادات کی اولادیں حتی کہ کئی نامی گرامی ما، بقیہ مگر عیسائیت کا جال پھیلانے لگے۔آگرہ کی شاہی مسجد کے امام مولوی عماد الدین مهتاب نے جو عیسائی ہوکر ریورنڈ مولوی عماد الدین کہلائے اپنے رسالہ شخط شکاگو مطبوعہ سہ میں کئی ایسے علماء کی فہرست دی جو صلیبی فتنہ کا شکار ہو گئے۔یہ فرسٹ لندن کے اخبار انٹیلیجنسر میں شائع کی گئی جس پر عیسائی دنیا کا جشن مسرت منا نا قدرتی امر تھا۔مکہ و مدینہ پریسی جھنڈا لہرانے کے خواب عیسائیت کی اس جارحانہ پیشقدمی اور پے در پے فتوحات سے صلیب پرستوں کے حوصلے بڑھ گئے اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ جلد ہی صفحہ ہستی سے اسلام کا نام ونشان تک ا یہاں ر ا د صرف انیسویں صدی کے وہ بد زبان پادری ہیں جو ہمارے آقا رسول تمد اصل اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے تھے اس دور کے مسیحیوں کا شریف طبقہ ہرگز اس کا مخاطب نہیں۔