وفات مسیح اور احیائے اسلام

by Other Authors

Page 31 of 72

وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 31

۳۱ صحابہ رسول کا اجماع وفات مسیح پر اس الوداعی خطبہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔اس قیامت نیز حادثہ سے پوری دنیا صحابہ کی نظر میں تاریک ہوگئی اور حضرت عمر بن خطایت جیسا جری، اولوالعزم اور صاحب جلال و تمکنت وجود اپنی تلوار بے نیام کر کے کھڑا ہوگیا تا ہر اس شخص کو قتل کر دے ہو اپنی زبان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی نسبت کوئی کلمہ نکالنے کی جرات کرے۔حضرت عمری پر اس صدمہ کا اس درجہ اثر تھا کہ آنحضرت کی نعش مبارک اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے گھر کے جارہے تھے مَا مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔۔۔وَلَا يَمُوتُ حَتَّى يَقْتُلَ الْمُنَافِقِينَ : ( قسطلانی شرح بخاری ) یعنی آنحضر صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور جب تک منافقوں کو قتل نہ سریں ہر گنتہ فوت نہیں ہوں گے۔صحیح بخاری شریف میں حضرت ابن عباش کی روایت ہے کہ اس مرحلہ پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا کہ عمرا بیٹھ جاؤ۔مگرانہوں نے بیٹھنے سے انکار کر دیا۔تب لوگ حضرت ابو کرینہ کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت عمرہ کو تنہا چھوڑ دیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اما بعد مَن كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْمات - وَمَن كَانَ مِنكُمْ يَعْبُدُ اللَّهُ فَإِنَّ - اللهَ حَيٌّ لا يَموتُ قَالَ اللهُ وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَنَا بِنْ تَمَاتَ أَو تُتلَ انْقَلَبُ تُم على اعتقا بكده وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُر اعْقَابِكُمْ