وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 24
کے نظریہ حیات مسیح کے خلاف علم جہاد عید کئے رکھا۔یہ حقیقت صد توئی کے مشہور والے وقد نجران سے خوب مل جاتی ہے۔کہ معظمہ سے بین کی طرف سات منزل پر نجران کی عیسائی ریاست تھی جہاں ایک عظیم الشان گرجا تھا میں کو وہ کھیہ تحجران کہتے تھے اور حرم کعبہ کا جواب سمجھتے تھے۔یہ کعبہ تین سوکھالیوں سے گفتید کی شکل میں بنایا گیاتھا۔مغرب میں عیسائیوں کا گوتی مذہبی مرکز اس کا ہمسر نہ تھا ، اس ریاست کا انتظام تین شعبوں پر قسم تعلم خارجی اور جنگی امور کے ناظم کو سید کہتے تھے۔دنیادی اور داخلی امور عاقب کے سپرد ہوتے اور دینی امور کا ذمہ دار اسقف (اللہ ڈیشپ کہلاتا تھا۔ان مذہبی پیشواؤں کا تقریرہ خود قیصر روم کیا کرتا تھا۔رحیم البلدان بیلد ه می آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوسرے بادشاہوں کے ساتھ تبلیغی خط لکھا میں پریشہ ہجری میں تحجران کا ایک پرشکوہ مقصد مدینہ حاضر ہوا۔یہ وقد ستانو امکان پرمشتمل تھا اور اس میں ریاست کے تینوں لیڈر بھی تھے۔جن کے نام یہ ) ہیں عبد المسیح (عاقب) شرجیل یا اسیم دستید) اور ابو حادثہ میں مقیمہ (استققت یہ وقد شاہی تزک و احتشام کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔آنحضور نے انہیں مسجد تیوتی میں اتارا۔تھوڑی دیر بعد ان کی نماز کا وقت آیا تو پیغمبر اس صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ان لوگوں نے مسجد نبوی میں ہی اپنی مخصوص عیادت کی جس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد کو جو گویا عیسائی دنیا کا ایک نمائندہ وفد تھا، اسلام کی طرف بلایا اور انھوں نے جواب میں کہا کہ ہم تو پہلے ہی مسلمان ہیں آنحضرت ملا لا لای لای من را یا کہ تم کو ملا کا بیا مانتے الطیب پیتے اور خنزیر کھاتے ہو۔یہی وجہ ہے کہ تمہیں اسلام لاتے ہیں۔ناقل ہے، کہنے لگے اگر یوں بیچ ندا کا بیٹا نہیں تو اس کا باپ کون ہے یا آخرت میں