وفا کے قرینے — Page 22
حضرت خلیفہ اصبح الاول رضی اللہ عنہ 222 22 غزل مکرم صوفی تصور حسین صاحب اور لیس بریلی ثم قادیانی نشور نور احمد سے ہے جاں روشن جہاں روشن زمین و آسمان روشن ، مکیں روشن ، مکاں روشن ہوا جب طفیل اُس کے ہے ہر سُو روشنی دارین میں پھیلی ادھر روشن ادہر روشن یہاں روشن وہاں روشن P جلوہ فرما تختِ دل پر نام احمد دل و جاں ہو گیا روشن دہن روشن زباں روشن مور فیض سے اُس کے ہوا ہے ظاہر و باطن عذار گلر خاں روشن ڈرون مومناں روشن وہی ہم گمرہوں کے واسطے شمع ہدایت ہے اُسی سے خامہ گاں کے دل میں ہے باغ جناں روشن یہ تازہ نور افشانی ہی اُس کی دیکھ لی سب نے نہاں تاریکی اسلام کی اُس نے عیاں روشن مٹا کر ظلمت کفر و ضلالت نور پھیلایا کہ رُوح عارفاں روشن ہے راہِ سالکاں روشن البہی نور سے اپنے منور کر میرا سینہ وجود نور دیں سے جس طرح ہے قادیاں روشن