وفا کے قرینے — Page 352
حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 352 ابھی تو روبرو ہم نے ملاقاتیں بھی کرنی تھیں ابھی تو تم سے دل کی کتنی ہی باتیں بھی کرنی تھیں ابھی تو ناز اٹھوانے، مداراتیں بھی کرنی تھیں ابھی اہلِ وفا نے نذر سوغاتیں بھی کرنی تھیں ابھی تو میری جاں ہم کو دعاؤں کی ضرورت تھی ابھی تو دان تم نے ہم کو خیراتیں بھی کرنی تھیں ابھی تو تشنگی دل کی مرے بجھنے نہ پائی تھی ابھی تو تو پیار کی کچھ اور برساتیں بھی کرنی تھیں تھے اس بستی کے باسی منتظر کہ چاند نکلے گا منور نور سے ہم نے سیاہ راتیں بھی کرنی تھیں ابھی تو چاندنی کو میرے آنگن میں اترنا تھا یہ تم نے کیا کیا جاناں! یہ تم نے کیا کیا جاناں! یہ میری اور تمہاری پیاری بستی ، زنده دل بستی کہ جس کے تم بھی شیدائی تھے جس کی میں بھی شیدا ہوں اچانک ہی خبر ایسی سنی کہ ایسے لگتا کہ جیسے کوئی سایہ ہو گیا ہو یا کوئی جادو ہے